برطانیہ میں شریف خاندان پر حملے کا خدشہ ، لندن پولیس نے خبر دار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)برطانیہ میں شریف خاندان کے ارکان کو نامعلوم افراد کی طرف سے پُرتشدد حملے کا خطرہ ہے، میٹ پولیس نے شریف خاندان کے ارکان کو اس حوالے سے خبردار کردیا ہے۔ ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کو ممکنہ حملے کے خطرے سے آگاہ کیا۔جیو نیوز کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز پولیس کو حملے سے متعلق اطلاع انٹیلی جنس مانیٹرنگ سسٹم سے ملی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران نے ایون فیلڈ فلیٹ میں جاکر شریف فیملی کے ارکان کو خطرے سے آگاہ کیا۔پولیس نے شریف فیملی کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ چوکنا رہیں اور آمد و رفت میں احتیاط برتیں۔دو ہفتہ قبل گلفام حسین کو پولیس نے ایون فیلڈ کے باہر سے گرفتار کیا تھا جبکہ انہیں فلیٹس کے قریب آنے سے منع کردیا گیا تھا۔ گلفام حسین کی گرفتاری کا ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے انتباہ سے تعلق نہیں۔شریف خاندان نے حملے کے خطرے سے متعلق رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا۔ شریف خاندان کے بیشتر افراد اب پاکستان منتقل ہوچکے ہیں۔
بیوی کے تشدد سے تنگ آکر شوہر نے خودکشی کرلی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شریف خاندان پولیس نے کے ارکان
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔