سیالکوٹ، غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 3 ملزمان پاکستان واپس پہنچنے پر گرفتار کرلیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
سیالکوٹ (آئی این پی )وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن سرکل نے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 3 ملزمان کو پاکستان واپس پہنچنے پرگرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کیے گئے ملزمان کی شناخت محمد عمران، محمد ناصر اور محمد طیب کے نام سے کی گئی ہے، ملزمان کا تعلق سیالکوٹ اور گجرات سے ہے۔ملزمان نے غیر قانونی طریقے سے اسپین جانے کی کوشش کی تھی، ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافروں نے ایجنٹوں سے اسپین جانے کے 35 لاکھ روپے فی کس میں معاملات طے کیے تھے۔
شب معراج مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی
حکام نے بتایا کہ ایجنٹس ان تینوں کو اسپین بھیجنے میں ناکام رہے، جس کے بعد یہ تینوں مسافر واپس پاکستان پہنچے، سیالکوٹ ایئرپورٹ سے انہیں حراست میں لے کر انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل گوجرانوالہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اس دوران خطرناک انداز میں دوسرے ممالک پہنچنے کے لیے سمندری سفر کے دوران کشتی حادثوں میں کئی نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔رواں ماہ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ اسپین جانے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہونے والی تارکین وطن کی کشتی میں 80 مسافر سوار تھے، جن میں متعدد پاکستانی شہری بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔
سیکیورٹی خدشات، رات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹرین نہیں چلا سکتے، ریلوے حکام کا قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف، بریفنگ طلب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔