موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے: جسٹس منصور علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ—فائل فوٹو
سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلادیش اور انڈونیشیا نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ دنیا کا درجۂ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے ڈومیسٹک اور گلوبل سطح گرین سکوک جاری کیے اور قابل تجدید انرجی کے لیے فنانسنگ کی۔
ان کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا نے ٹرانسپورٹیشن اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بھی فنانسنگ کی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے بچانے کی راہ اسلامی فنانس بتاتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی انسانیت کو درپیش سے اہم ترین چیلنج ہے۔
سپریم کورٹ کے جج کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ نے کہا ا ہستہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔