بھارتیوں کیساتھ فرینڈلی کیوں ہورہے ہو؟ معین خان بھڑک اُٹھے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر بیٹر معین خان نے پاکستانی کھلاڑیوں کا بھارتی پلئیرز کیساتھ اوور فرینڈلی رشتے پر برہمی کا اظہار کردیا۔
سابق کرکٹر نے معروف اداکارہ و میزبان اُشنا شاہ کے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے موجودہ پاکستانی کرکٹرز اور بھارتی پلئیرز کیساتھ میدان پر ہونیوالے دوستانہ ماحول پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
میزبان اُشنا شاہ نے سوال کیا کہ ماضی میں ہمارے کرکٹرز پر بارڈر کے دوسری طرف سے بھی بہت زیادہ پیار ملتا تھا لیکن اب چاہے شوبز ہو یا کرکٹ ایسا نہیں، ہمارے کھلاڑی ویرات کوہلی سمیت دیگر کیساتھ تصاویر بنوارہے ہیں کیوں؟۔
مزید پڑھیں: ورلڈکپ کوہلی سے جرسی لینے پر بابراعظم تنقید کی زد میں
جس پر معین خان نے جواب دیا کہ مجھے اپنے کھلاڑیوں کو انکے پلئیرز کیساتھ ہنستا کھیلتا دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے، میرا تمام کھلاڑیوں سے باہمی عزت کا تعلق ہے لیکن ایک وقت ہماری ٹیم بھارت سے بہت آگے تھی، آج انکی ہے! وہی مارجن جو ہم نے اس وقت بنایا تھا آج تک وہی لیکر چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بھی بھارتی کرکٹرز کیساتھ اچھے روابط تھے اور آج بھی ہیں لیکن میدان پر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرا کوئی پسندیدہ پلئیر آرہا تو میں اسکا بیٹ چیک کرنے لگوں، ہمارے پلئیرز منفی میسج دیتے ہیں جسکا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے ٹاکرا دماغ پر حاوی، کوہلی غلط شرٹ پہن کر میدان میں اتر آئے
معین خان نے کہا کہ جب آپ ایسی حرکتیں کرتے ہیں تو حریف ٹیم آپکے خلاف مزید طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے کیونکہ آپ دماغی طور پر پیچھے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: "چیمپئینز ٹرافی؛ بمراہ فٹ ہوگئے تو معجزہ ہوگا"
سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ میں جب کبھی کسی عہدے پر رہا ہمیشہ یہی کوشش کی کھلاڑیوں کو سمجھاؤں کہ یہ رویہ نہ اختیار کریں، خود وسیم اکرم بھی کرکٹرز کے رویے پر ناراض رہتے ہیں۔ ہارے پلئیرز اب میدان پر بھی جارحانہ رویہ اختیار کرنا بھول گئے ہیں۔
معین خان نے مزید کہا کہ وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے کھلاڑیوں کو بھی میدان پر بھارتی کرکٹرز کیساتھ مذاق کرتے یا بیٹ چیک کرتے اور سیلفی بنواتے نہیں دیکھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔