کراچی: رواں سال کے پہلے ہی مہینے میں شہر قائد کے اندر کتے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد  شہری کراچی میں بڑھتے ہوئے کتوں کی تعداد سے کافی پریشان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سول اسپتال میں ریبیز کلینک کی انچارج ڈاکٹر رومانہ فرحت کاکہنا ہےکہ کتے کے کاٹنے کے یومیہ 150 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، اب تک سول اسپتال میں کوئی 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

ایسے میں شہریوں کا کہنا ہےکہ کراچی میں بڑھتے ہوئے کتوں کی تعداد سے کافی پریشان کن بات ہے کیونکہ کتے کے کاٹنے کے بعد شہر قائد میں علاج ناممکن ہے، جس کی وجہ سے انسان دیگر کئی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے، حکومت کتوں کو مارنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کرنے والی این جی اوز کے ساتھ افزائش کی سہولیات فراہم کررہی ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں بڑھتے ہوئے کتوں کی تعداد پر توجہ دیتے ہوئے فوری طور پر کتامار مہم کا آغاز کرے کیونکہ شہر میں کہیں بھی کتے کاٹنے کے بعد کی پروپر ویکسین دستیاب نہیں ہے، سرکاری اسپتالوں میں جانے کے بعد ڈاکٹرز علاج کرنے کے بجائے اپنی بغلیں جھانک رہے ہوتے ہیں۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے زخم کو فوری طور پر صابن سے دھونا ضروری ہے، اس کے علاوہ  متاثرہ افراد کو اینٹی ریبیز ویکسین اور حفاظتی کورس مکمل کرنا بھی ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار