فلسطین کی الجہاد الاسلامی نے اسرائیلی یرغمالی اربیل یہود کی وڈیو جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں عارضی رکاوٹ بننے والی یرغمالی خاتون اربیل یہود کی تازہ ویڈیو اسلامک جہاد نے جاری کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اربیل یہود کی رہائی ہفتے کے روز متوقع ہے۔ اسی دن دیگر دو خواتین یرغمالیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔
تاہم اس سے قبل اربیل یہود کی رہائی کے لیے اسرائیل نے پناہ گزین فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں اپنے گھروں کی واپسی کو راہداری کو بند کرکے روک دیا تھا۔
اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اربیل یہود کا نام رہائی پانے والے یرغمالیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے اور جب تک یہ معاملہ حل نہیں کیا جائے گا۔ راہداری بند رہے گی۔
جس کے بعد ثالثوں نے مداخلت کی اور حماس کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ہفتے کے روز رہائی پانے والی 3 یرغمالی خواتین میں اربیل یہود بھی شامل ہوں گی۔
حماس نے یہ بھی کہا تھا کہ اربیل یہود زندہ ہیں اور اس وقت مغربی کنارے کی فلسطینی تنظیم اسلامک جہاد کے پاس بالکل محفوظ حالت میں ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حماس کی تصدیق کے بعد راہداری کو کھول دیا جس کے ذریعے ہزاروں فلسطینی پناہ گزین پیدل چلتے ہوئے اپنے گھنڈرات بنے گھروں کو پہنچ گئے۔
تاہم اب ایک نئی پیشرفت میں اسلامک جہاد نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اربیل یہود کو یہ کہتے سنا گیا کہ آج 25 جنوری 2025 ہے اور میں اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں۔
ایک منٹ سے زیادہ کے دورانیہ کی اس ویڈیو میں اربیل نے اپنا تعارف کرایا اور اسرائیلی وزیراعظم سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو جاری رکھنے مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ حماس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو حملہ کیا تھا جس کے دوران ایک گھر سے اربیل یہود اور ان کے بوائے فرینڈ کو یرغمال بناکر غزہ لایا گیا تھا۔
غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس 31 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گا جس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے 2 ہزار کے قریب فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اربیل یہود کی
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں