کراچی(کامرس رپورٹر)آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، سدرن زون نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے حالیہ فیصلے کو برآمدی ٹیکسٹائل صنعت کے خلاف قرار دیا، جس کے تحت کیپٹیو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کے لیے گیس کی قیمت 3,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 3,500 روپیفی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی ہے۔ اپٹما کا کہنا ہے کہ ملکی برآمدات میں 60 فیصد حصہ رکھنے والی ایکسپورٹ پر مبنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوگا۔چیئرمین سدرن زون نوید احمد نے کہا کہ حالیہ 16.

7 فیصد اضافہ جو گیس کی قیمتوں میں کیا گیا، ان صنعتوں کیلئے جن کے پاس سی پی پی ہیں اور جو بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس کا استعمال کرتی ہیں، یہ برآمدی ٹیکسٹائل صنعت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، جو پہلے ہی ملکی اور عالمی مارکیٹ میں متعدد چیلنجز کا سامنا کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور نہ صرف ملک کے لئے انتہائی ضروری زرمبادلہ کما رہا ہے بلکہ لاکھوں افراد کو براہ راست یا بالواسطہ روزگار بھی فراہم کررہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران گیس ٹیرف میں 311 فیصد اضافے کی وجہ سے برآمدی ٹیکسٹائل صنعت بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر مسابقتی ہوتی جارہی ہے کیونکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداواری لاگت میں توانائی کی لاگت کا بڑا حصہ ہوتا ہے لہذا خطے میں توانائی کی لاگت سب سے زیادہ ہے۔ قرضے اور ٹیکس کی سب سے زیادہ لاگت، پاکستانی ٹیکسٹائل بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر مسابقتی ہوں گے.انہوں نے مزید کہا کہ سی پی پیز کے لیے گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا فیصلہ نہ صرف وزیر اعظم کی طرف سے اڑان پاکستان پروگرام میں برآمدات کے اہداف کو حاصل کرنے میں نقصان دہ ثابت ہوگا، بلکہ یہ محنت سے کمائی گئی برآمدی مارکیٹس کو بھی کھو دے گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ صنعتوں نے گیس پر مبنی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ وہ اپنی کھپت کے لئے بلا تعطل بجلی پیدا کرسکیں کیونکہ سندھ اور بلوچستان میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں صنعتی ضروریات کے لیے بلا تعطل بجلی کی مطلوبہ مقدار فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گیس پر مبنی سی پی پیز کے بجائے گرڈ بجلی کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ پالیسی سندھ اور بلوچستان میں گرڈ بجلی کی فراہمی کی کمزور صلاحیت اور عدم استحکام کی وجہ سے قابل عمل نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے سی پی پی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے ہوگی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں آج رات سے نافذ العمل ہوں گی اور 23 جولائی تک برقرار رہیں گی۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے