ایف بی آر کا ملک بھر میں کاروباری شعبے کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق تمام کاروباروں کو ایف بی آر کے کمپیوٹر سسٹم سے منسلک کیا جائے گا، ای انوائسنگ ہارڈویئر، سافٹ ویئر کو ایف بی آر کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک کرنا ہے۔ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006ء میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر میں کاروباری شعبے کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ایف بی آر کے مطابق ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ سمیت ہر قسم کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، پوائنٹ آف سیل پر ٹرانزیکشنز کی سی سی ٹی وی نگرانی بھی ہو گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق تمام کاروباروں کو ایف بی آر کے کمپیوٹر سسٹم سے منسلک کیا جائے گا، ای انوائسنگ ہارڈویئر، سافٹ ویئر کو ایف بی آر کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک کرنا ہے۔ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006ء میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سسٹم سے منسلک کو ایف بی ا ر
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔