اسلام آباد/لاہور(صباح نیوز)وفاقی وزیر مواصلات، نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں موٹرویز کے گرد حفاظتی باڑ کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو 10دن میں انکوائری رپورٹ پیش کرے گی۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سکھر سے حیدر آباد موٹروے ایم6کی تعمیر ان کی اولین ترجیح ہے جسے کراچی تک بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 6ماہ کے عرصے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ریونیو میں ہونے والا 50ارب
روپے کا اضافہ ڈپازٹ اکاؤنٹ ہوگا، یہ فنڈز ضائع نہیں کرنے دیں گے اور یہ پیسہ ان منصوبوں پر استعمال ہو گا جہاں سے مزید ریونیو حاصل ہو سکے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ 60سے110ارب روپے تک ریونیو کو لے کر جانا قابل ستائش کامیابی ہے اور و ہ آئندہ 5برسوں میں این ایچ اے کے محصولات میں 400ارب روپے کا مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور اگر جون تک ریونیو کا طے شدہ ہدف حاصل ہو گیا تو این ایچ اے کے تمام ملازمین کو ایک تنخواہ کے برابر اضافی بونس ملے گا۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اس امر کا اظہار کیا کہ سیالکوٹ سے کھاریاں اور راولپنڈی موٹروے کو 4کی بجائے6لین بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے لئے کام جلد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے موٹرویز پر مرمت کے کام کو فروری میں مکمل کرنے اور وفاقی سیکرٹری مواصلات کو موقع پر معائنہ کرنے کی ہدایت کی۔وفاقی وزیر مواصلات کی ہدایت پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی ملکیت خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کے لئے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جس کی سفارشات کی روشنی میں اس پراپرٹی کو ریونیو بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ کوئی پسند یا نہ پسند نہیں ہوگی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہر کام میرٹ پر یقینی بنائے اور سب کے لئے ایک جیسی پالیسی پر عملدرآمد کر کے اس ادارے کو ہر حال میں اپنے فنڈز جنریٹ کرنا ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے نے مختلف جاری منصوبوں پر بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے قومی روڈ نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کئی ایک منصوبے زیر تکمیل ہیں جن پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں چاروں صوبوں میں اہم منصوبوں کی تکمیل پر ان کا افتتاح وزیر اعظم سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اس سے پہلے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان خود موقع پر معائنہ بھی کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عبدالعلیم خان نے کے لئے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی