واشنگٹن،مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں جاگرا، 30 لاشیں نکال لی گئیں، امدادی آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
واشنگٹن : واشنگٹن ائرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر میں خوفناک تصادم کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ائیرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومیک کے اورپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔
عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تصادم کے بعد جہاز کے کئی ٹکڑے ہو گئے جو ہیلی کاپٹر سمیت دریائے پوٹومیک میں جا گرے۔ اس تصادم میں ہیلی کاپٹر کا بیشتر حصہ سلامت رہا، حادثے کے بعد دریائے پوٹومیک میں غوطہ خوروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔
فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطا ق شام 8 بجکر 48 منٹ پر پیش آیا، اس وقت طیارے کی رفتار 166 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی،رپورٹس کے مطابق بمبارڈیئر CRJ700 طیارے میں 78 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
امریکی حکام کا بتانا ہےکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 64 مسافر سوار تھے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور اب تک 30 لاشوں کو دریا سے نکال لیا گیا ہے اور مزید کی تلاش جاری ہے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانےوالے فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 اہلکار سوار تھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرتربیتی پرواز پر تھا،حادثے کے بعد ریگن نیشنل ائیرپورٹ پرتمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی فضائی حادثے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی فائر چیف کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کےلیے صورتحال موافق نہیں ہے، خراب موسم،شدید سردی ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ بن رہی ہے، امدادی آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہ سکتاہے۔
ان کا بتانا ہے کہ حادثےمیں بچ جانے والوں کےبارےمیں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
میئر واشنگٹن ڈی سی نے بتایا ہے کہ دریائے پوٹومیک کو بھی کشتی سروس کے لیے بند کردیاگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوجی ہیلی کاپٹر کے مطابق
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔