لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کیلیے رابطہ کیا تھا اس وقت کہا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی منتوں پر آگئی ہے، ترلے کر رہی ہے پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہوگیا ہے وہ مذاکرات سے نکل گئے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی جو پیشکش آج وزیراعظم کر رہے ہیں وہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد ہوئی اس وقت یہ بتانے میں کیا ایشو تھا؟، پھر بھی میں کہوں گا کہ مذاکرات سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں ہوتا۔

تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ ایک تو یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ پی ٹی آئی پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ پنجاب کو نکالنے میں یہ ناکام ہو گئی، سندھ سے لوگوں کو نکالنے میں ناکام ہو گئی،8 فروری کو عمران خان نے جس طریقے سے اس قوم کو نکالا ہے اس کی مثال پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ پی ٹی آئی کیسے قبول کر سکتی ہے وہ کہہ رہے ہیں جوڈیشل کمیشن بنائیں اور اس میں اسلام ہائیکورٹ کے تین سینئر ترین جج یا ایک سینئر ترین جج کو لگایا جائے، ان کا ارادہ بھی واضح ہے کہ وہ کن ججوں کے نام مانگ رہی ہے۔

تجزیہ کار شکیل انجم نے کہا کہ وزیراعظم نے آج جو پیشکش کی ہے میرا خیال ہے کہ حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے، پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ وہ مذاکرات کے اس عمل کا حصہ بنے کیونکہ جو بھی راستہ نکلنا ہے وہ مذاکرات کے ذریعے ہی نکلنا ہے، میرے خیال میں یہ حکومت کی طرف سے ایک اچھی پیشکش ہے اوراس سے بات چیت کو آگے بڑھایاجا سکتا ہے۔

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے کہ ان کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لے کر آئیں، جوڈیشل کمیشن ہو یا پارلیمانی کمیشن ہو اس کا جو بھی رزلٹ ہوکیا پی ٹی آئی اس کو مان لے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وہ مذاکرات تجزیہ کار پی ٹی ا ئی نے کہا کہ نکلنا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن