آذربائیجان کا مواصلات و دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کیلیے اظہار دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
باکو (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات، نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آذربائیجان میں وزیر ڈیجیٹل ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپورٹ راشد نبی اوف سے ملاقات ہوئی ہے، اجلاس
میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین نے ایم 6 اور ایم 9 موٹرویز کے منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ آذربائیجان کے حکام سے پاکستان سے ریل، روڈ اور دیگر ذرائع مواصلات پر باہمی شراکت داری پر مذاکرات ہوئے۔ اجلاس میں دونوں اطراف سے اعلیٰ سطحی وفود کے ساتھ فیصلہ ہوا کہ آذربائیجان پاکستان میں بالخصوص موٹرویز ایم 6 اور ایم 9 سکھر، حیدرآباد، کراچی میں سرمایہ کاری کیلیے فیزیبلٹی اور دیگر امور کے جائزے کیلیے اپنا وفد فروری میں بھیجے گا۔ مزید برآں پاکستان اور آذربائیجان کے مابین شاہراہوں کی تعمیر کیلیے بزنس ٹو بزنس اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اشتراک کے آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔ دوران اجلاس عبدالعلیم خان نے آذربائیجان کے وزیر ٹرانسپورٹ راشد نبی اوف سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان سے وسط ایشیائی ریاستوں تک ذرائع آمد و رفت کو بہتر بنانا اشد ضروری ہے اور اس ضمن میں دونوں ممالک نمایاں پیشرفت کرسکتے ہیں۔ آذربائیجان کے وزیر راشد نبی اوف نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور سرمایہ کاری میں نمایاں پیشرفت کا خواہاں ہے اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی قیادت میں اس وفد کے دورے سے اس ضمن میں مثبت پیشرفت ہوگی۔
آذربائیجان
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آذربائیجان کے سرمایہ کاری
پڑھیں:
پی آئی اے کی نجکاری، حکومت کا ایک بار پھر درخواستیں طلب کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے ایک بار پھر اظہار دلچسپی کی درخواستیں 24 اپریل کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کم از کم ایک ماہ کی مہلت دی جائے گی۔
نجکاری کمیشن نے بتایا کہ اس عمل میں صرف سنجیدہ سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کے لیے پری کوالیفکیشن کے معیار سخت کر دیے گئے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ نج کاری کے لیے پی آئی اے کے 51 فیصد سے 10 فیصد تک شیئرز فروخت کیے جائیں گے، نج کاری کے عمل میں ملازمین کا تحفظ اور سروس اسٹرکچر برقرار رکھا جائے گا۔
اس ضمن میں کہا گیا کہ پی آئی اے کے اثاثوں اور مالی حیثیت کا جائزہ جولائی تک مکمل کرلیا جائے گا، درخواستوں کی جانچ پڑتال ستمبر 2025 تک اور نج کاری کا عمل دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ۔
نج کاری کمیشن نے بتایا کہ پری کوالیفکیشن کے معیار سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ صرف سنجیدہ سرمایہ کار ہی اہل ہوں۔
حکام کے مطابق پری کوالیفکیشن میں سرمایہ کار کمپنیوں کو ملٹی ایئر ریونیو کی شرط پوری کرنا ہوگی، یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی کے بعد پی آئی اے سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بن چکی ہے اور خلیجی ریاستوں اور ترک ایئر لائن سمیت متعدد اداروں کی جانب سے دلچسپی متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بار کلین پی آئی اے کا ماڈل اپنایا گیا اور حکومت پہلے ہی پی آئی اے کا قرضہ اپنے ذمہ لے چکی ہے، وفاقی کابینہ نج کاری کمیشن کی سفارش پر نج کاری کی منظوری دے چکی ہے۔