کراچی کی 1 گلی کا نام تاجکستان اسٹریٹ رکھ رہے ہیں: گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری— فائل فوٹو
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ دشمن ملک منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
پاکستان ٹریول مارٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ ایکسپو سینٹر آنا اچھا لگتا ہے، یہی وہ جگہ جہاں سے معیشت اور ثقافت اجاگر ہوتی ہے۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول بن چکا ہے، یہ ماحول وزیرِ اعظم کے اڑان پاکستان کا اظہار ہے، یہ ماحول جنرل عاصم منیر اور ایس آئی ایف سی کی کوششوں کا مظہر ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ایک دوسرے کو دل میں جگہ دینے سے ہی استحکام ممکن ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجکستان کے سفیر میرے ساتھ موجود ہیں، کراچی میں ایک گلی کا نام تاجکستان اسٹریٹ رکھا جا رہا ہے جبکہ تاجکستان کی ایک گلی کا نام کراچی سٹی ہو گا۔
کامران ٹیسوری نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی ایف سی کے بارے میں بات کرنے پر تنقید ہوتی ہے، یہی ایس آئی ایف سی ملک کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔