سپریم کورٹ میں ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
سپریم کورٹ میں ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان کا الزام WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا ہ کہ سپریم کورٹ میں چند ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں، چیف جسٹس نے عہدہ قبول کر کے ہمیں بہت مایوس کیا، ہمارے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہیں۔لاہور ہائی کورٹ بار میں وکلا نمائندہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا، کنونشن 26 ویں ترمیم کے عدلیہ پر اثرات کے عنوان سے منعقد کیا گیاکنونشن میں سینٹر حامد خان ، ہائی کورٹ بار کے صدر اسد منظور بٹ ، لاہور بار کے صدر مبشر رحمان شریک ہوئے۔
، کنونشن میں ہائی کورٹ بار کے سابق صدور احمد اویس ، شفقت چوہان ، اشتیاق اے خان، سابق نائب صدر ربیعہ باجوہ سمیت ملک بھر سے وکلا نمائندگان نے شرکت کی۔پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر حامد خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی تحریک شروع ہو ، چکی ہے یہ 26 ویں ترمیم کو بہا لے جائے گی، ہماری جدوجہد آگے بڑھ رہی ہے، 26 ویں ترمیم کے خلاف ، وکلا تنظیموں نے درخواستیں دائر کیں، ان درخواستوں پر موجودہ 16 ججز پر مشتمل فل کورٹ سماعت کرے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :