بلوچستان حکومت کیجانب سے آئندہ سال کے بجٹ کی تیاریاں شروع
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
سیکرٹری خزانہ بلوچستان کے مطابق تین فروری سے آئندہ سال کے بجٹ کے سلسلے میں اجلاسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تمام محکموں سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ تین فروری سے صوبائی محکموں کی جانب سے بجٹ تجاوز دینے کیلئے اجلاسوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا۔ بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ دس کھرب روپے تک متوقع ہے۔ سیکرٹری خزانہ بلوچستان عمران زرکون نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ خزانہ نے آئندہ مالی سال بجٹ کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پہلے مرحلے میں تمام محکموں سے بجٹ تجاوز لی جا رہی ہیں۔ جس کیلئے میٹنگز کا سلسلہ تین فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ ان تجاوز کی روشنی میں بجٹ تیار کیا جائے گا۔ عمران زرکون نے بتایا کہ بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت باقاعدگی سے رقم مل رہی ہے۔ تاہم صوبے کو کم و بیش 100 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔ جن میں پی پی ایل کی جانب سے سوئی گیس رائلٹی کی مد میں 60 ارب روپے اور زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کی مد میں وفاقی حکومت نے 39 ارب روپے شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔