Express News:
2026-07-24@03:41:56 GMT

اراکین پارلیمنٹ کی عیاشیاں اور عوام کی بدحالی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ ایک متنازع فیصلہ ہے، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے ہاتھوں پریشان ہیں، اور ایسے میں حکومتی نمائندوں کےلیے مراعات میں اضافہ کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت، اب ایک رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر کی ماہانہ تنخواہ و مراعات 5 لاکھ 19 ہزار روپے ہوگی۔

یہ اضافہ اس اصول کے تحت کیا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی سیکریٹری کے برابر ہونی چاہئیں۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق، اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے اس فیصلے کی متفقہ منظوری دی، جس میں یہ طے کیا گیا کہ تمام کٹوتیوں کے بعد وفاقی سیکریٹری کی تنخواہ اور الاؤنسز کے مساوی رقم ہی اراکین پارلیمنٹ کو دی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اراکین پارلیمنٹ نے 10 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اسپیکر ایاز صادق نے اسے مسترد کرتے ہوئے 5 لاکھ 19 ہزار کی حد مقرر کی۔ اگرچہ اسپیکر نے مطالبہ پورا نہیں کیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ میں اضافہ واقعی ضروری تھا؟

پاکستان میں موجودہ وقت میں مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں روزانہ اضافے کے باعث عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری طرف حکومت عوام کو کفایت شعاری کا درس دیتی ہے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے دعوے کرتی ہے۔

پاکستان میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک عام شہری جو پہلے 30 سے 40 ہزار روپے میں گھر کا خرچ چلا لیتا تھا، آج وہی شخص دو وقت کی روٹی کےلیے پریشان ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کے اراکین کےلیے 5 لاکھ سے زائد کی تنخواہ اور دیگر مراعات کا جواز کیا ہوسکتا ہے؟

اس وقت پاکستان پر مجموعی طور پر 130 ارب ڈالر سے زائد کا بیرونی قرضہ ہے۔ ملک کی معیشت بیرونی امداد اور قرضوں پر چل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے آئی ایم ایف سے مزید قرض حاصل کیا تاکہ ملک دیوالیہ نہ ہو۔ ایسے میں عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں بنیادی سہولتوں پر خرچ کرنے کےلیے پیسے نہیں، تو پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں بڑھانے کےلیے بجٹ کہاں سے آگیا؟

ایک عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کا معیار زندگی بلند ہونا چاہیے تاکہ وہ کرپشن سے دور رہیں اور ملک و قوم کےلیے بہتر پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔ یہ دلیل کسی حد تک درست ہوسکتی ہے، لیکن اگر ہم پاکستان کے زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک مختلف تصویر نظر آتی ہے۔

پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی مراعات پہلے ہی کئی ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ہیں۔ انہیں سرکاری گاڑیاں، رہائش، مفت سفری سہولتیں، ہیلتھ کیئر اور دیگر کئی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ترقیاتی فنڈز کی شکل میں بھی انہیں خطیر رقم دی جاتی ہے، جس کے استعمال پر اکثر سوالات اٹھتے ہیں۔

دوسری طرف، اگر ہم دنیا کے دیگر ممالک سے موازنہ کریں تو امریکا، برطانیہ، اور دیگر مغربی ممالک میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں عوامی معیار زندگی اور ملک کی معیشت کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عام شہری 32 ہزار روپے ماہانہ کم از کم اجرت پر بمشکل گزارا کر رہا ہے، وہاں پارلیمنٹ کے اراکین کےلیے لاکھوں روپے کی تنخواہ اور مراعات ایک غیر منطقی اقدام معلوم ہوتا ہے۔

حکومت کو سب سے پہلے عوام کی بنیادی ضروریات پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر واقعی قومی خزانے میں اتنی گنجائش ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھائی جاسکتی ہیں، تو پھر یہی رقم تعلیم، صحت، اور دیگر عوامی سہولیات پر کیوں نہیں لگائی جاسکتی؟

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتوں کا بنیادی مقصد عوام کو سہولتیں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ وہاں عوام کو سستی ٹرانسپورٹ، معیاری صحت کی سہولتیں، اور بہترین تعلیمی مواقع دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس کے برعکس، حکومتی اخراجات میں اضافے کی صورت میں بوجھ صرف عام آدمی پر ڈالا جاتا ہے۔

اگر موجودہ حکومت واقعی ملک کے معاشی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہوگا اور اراکین پارلیمنٹ کو یہ باور کرانا ہوگا کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، حکمران نہیں۔

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کےلیے بھی نئی گاڑیاں منگوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت بار بار کفایت شعاری اور معاشی بحران کی دہائی دے رہی ہے، تو پھر بیوروکریسی اور پارلیمنٹ کےلیے غیر ضروری مراعات کی فراہمی کیوں کی جارہی ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ انہی فنڈز کو عام شہریوں کی بہبود کےلیے مختص کیا جائے؟

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ اور ایف بی آر افسران کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتی ترجیحات عوامی مشکلات سے کہیں زیادہ اشرافیہ کی سہولتوں پر مرکوز ہیں۔ اگر عوام کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا، تو کم از کم ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے تو گریز کیا جائے!

ملک معاشی بدحالی کا شکار ہو یا عوام مسائل کے انبار میں گھرے ہوں، سیاسی شعبدہ بازوں کو تو غرض اپنے آپ سے ہے اور ان کا نیرو چین کی بانسری ہی بجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ پاکستان میں کی تنخواہیں قومی اسمبلی میں اضافہ اور دیگر ایسے میں عوام کو ہوتا ہے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار