9 ممالک اسرائیل کو جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے متفق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
9 ممالک نے اسرائیل کو جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے ‘ہگ گروپ’ تشکیل دیا ہے۔ اس گروپ کا مقصد اسرائیل کو اسلحہ کی منتقلی کو روکنا ہے اگر انسانی حقوق کے قوانین یا نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی کا خطرہ ہو۔
جنوبی افریقہ، ملائیشیا، نمیبیا، کولمبیا، بولیویا، چلی، سینیگال، ہونڈراس اور بیلیز کے نمائندے دی ہیگ میں جمع ہوئے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ایک مشترکہ کوشش کا اعلان کیا۔ اجلاس پروگریسو انٹرنیشنل کی میزبانی میں ہوا، جس کے نتیجے میں ‘ہگ گروپ’ کی تشکیل ہوئی، جس نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف قانونی، اقتصادی اور سفارتی اقدامات اٹھانے کا عہد کیا۔
نیا تشکیل شدہ ‘ہگ گروپ’ نے اپنی کوشش کو ضرورت سے جنم لینے والا قرار دیا، اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو نسل کشی سے تعبیر کیا۔ گروپ نے انسانی جانوں، روزگار، کمیونٹیوں، اور ثقافتی ورثے کے نقصان پر غم کا اظہار کیا اور بین الاقوامی جرائم کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کیا۔
مزید پڑھیں:واٹس ایپ نے اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی مہم پکڑ لی، قانونی کارروائی کااعلان
ہگ گروپ نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے عہدوں کی پاسداری کرنے کا عہد کیا، بشمول فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی قبضے کا خاتمہ کرنے اور فلسطینی عوام کے خود ارادیت اور ریاست کے حق کی حمایت کرنے کی کوششیں۔ گروپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی تحقیقات کی حمایت کرنے اور اسرائیلی عہدیداروں کے لیے جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹس پر عمل کرنے کا عہد کیا۔
آئی سی سی نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے وارنٹس جاری کیے تھے۔ ان کوششوں کے تحت، ہگ گروپ نے اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی سامان کی فراہمی یا منتقلی روکنے کے منصوبے کا اعلان کیا، جب ایسی صورتحال ہو جہاں انسانی حقوق کے قانون یا نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی کا واضح خطرہ ہو۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مشتبہ جہازوں کو جن پر اسرائیل کو فوجی ایندھن اور ہتھیار پہنچانے کا الزام ہو، ان کے اپنے دائرہ اختیار کے اندر پورٹس پر لنگر انداز ہونے سے روکا جائے گا۔ ہگ گروپ کی تشکیل جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں کیس کے بعد ہوئی، جس میں غزہ میں نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں برسایاگیااسرائیلی گولہ بارود اب بھی سنگین خطرہ کیوں؟
دسمبر 2023 سے متعدد ممالک جن میں نیکاراگوا، کولمبیا، کیوبا، لیبیا، میکسیکو، فلسطین، اسپین اور ترکی شامل ہیں، اس کیس میں شامل ہو چکے ہیں، جو اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کی علامت ہے۔
غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 47 ہزار 400 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 11 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد لاپتا ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا ہے۔ امدادی تنظیموں نے بچوں اور بزرگوں جیسے کمزور افراد کے لیے جاری تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
ہگ گروپ کے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اسرائیل کے قبضے کا خاتمہ کرنے اور فلسطینی خود ارادیت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ گروپ کا مشترکہ نقطہ نظر بین الاقوامی قانونی اور سفارتی کوششوں میں ایک اہم شدت کو ظاہر کرتا ہے تاکہ اسرائیل کو غزہ میں کیے گئے اپنے اقدامات کا حساب دینا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل بولیویا پاکستان ترکیہ غزہ فلسطین ملائیشیا نمبیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل پاکستان ترکیہ فلسطین ملائیشیا نمبیا بین الاقوامی اسرائیل کی اسرائیل کو کے خلاف گروپ نے کے لیے
پڑھیں:
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔
صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔