انگلینڈ کو بھارت کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 4-1 سے شکست
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
بھارت نے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں انگلینڈ کو 150 رنز سے شکست دے دی ہے۔
ٹیم انڈیا نے اتوار کو انگلینڈ کے خلاف ممبئی میں کھیلے گئے میچ میں سنسنی خیز جیت حاصل کی اور انگلینڈ کو اب تک کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ کی خاص بات یہ تھی کہ اوپنر ابھیشیک شرما نے سنسنی خیز سنچری کی اور بھارت کی جانب سے ورون محمد شامی اور ابھیشیک شرما، ورون چکرورتی اور روی بشنوئی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا نے یہ سیریز 4-1 سے جیت لی ہے۔
ممبئی میں ٹیم انڈیا کے لیے ابھیشیک شرما نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دھماکہ خیز سنچری بنانے کے علاوہ 2 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ابھیشیک نے اس میچ میں کئی ریکارڈ توڑے۔
ابھیشیک نے صرف 54 گیندوں پر 135 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس کی اننگز میں سات چوکے اور 13 چھکے شامل تھے اور اس نے اپنی سنچری 37 گیندوں میں مکمل کی جبکہ انگلینڈ کی جانب سے فلپ سالٹ نے نصف سنچری اسکور کی۔
فل سالٹ انگلینڈ کے واحد بلے باز تھے جنہوں نے مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 گیندوں پر 55 رنز بنائے لیکن کوئی دوسرا بلے باز 10 سے زیادہ رنز بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا اور پوری ٹیم انگلینڈ صرف 97 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
ممبئی میں منعقدہ اس میچ میں نوجوان اوپنر ابھیشیک شرما جیت کے ستارے ثابت ہوئے جنہوں نے 135 رنز کی تباہ کن اننگز کھیلی اور ٹیم انڈیا کو اس بڑے اسکور تک پہنچا دیا، ابھیشیک T20I اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے ریکارڈ ہولڈر بھی بن گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ابھیشیک شرما ٹیم انڈیا میچ میں
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔