ایازصادق کے گھر وزیراعظم اور پی پی رہنما ئوں میں کیا بات ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
ایازصادق کے گھر وزیراعظم اور پی پی رہنما ئوں میں کیا بات ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )وزیراعظم شہبازشریف کی اسپیکر ایازصادق کے گھر آمد کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم اسپیکر ایازصادق کی خصوصی دعوت پر ان کے گھر آئے جہاں پیپلز پارٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان تلخیاں کم کرنے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں شازیہ مری نے نہروں کا معاملہ اٹھایا، خورشید شاہ اور اعجاز جکھرانی نے پاور شیئرنگ فارمولے پر عملدرآمد پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چلنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، چھوٹے چھوٹے سیاسی معاملات کو حل کرلیں گے، اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ایازصادق ہم سے زیادہ آپ کے دوست ہیں یہ حل کروا دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہیکہ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایاز صادق نے توپی ٹی آئی سے بھی مذاکرات جاری رکھنے کی پوری کوشش کی، پیپلزپارٹی اور ہماری جمہوریت کے لیے جدوجہد ایک جیسی ہے، بات چیت اور مذاکرات سے تمام مسائل حل کرلیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کے بیٹے کو تحائف دیے اور شادی کی مبارک باد دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے گھر
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔