فورپاز کی ٹیم ہتھنیوں کی دیکھ بھال کیلئے جلد کراچی پہنچے گی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
فوٹو: فائل
جانوروں کی دیکھ بھال کےلیے کام کرنے والی عالمی تنظیم فورپاز کی ٹیم ہتھنیوں کی دیکھ بھال کےلیے جلد کراچی پہنچے گی۔
فورپاز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فورپاز کے ماہرین کی ٹیم ڈاکٹر عامر خلیل کی قیادت میں کراچی پہنچے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ ہتھنی سونیا کی ہلاکت کے بعد ملکہ اور مدھوبالا کی صحت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سونیا کی موت شدید بیکٹیریل انفیکشن سے ہوئی۔
ملکہ اور مدھوبالا کو احتیاطی اینٹی بائیوٹک دیا گیا ہے، دونوں ہتھنیوں کے خون کے نمونے لیے گئے ہیں، ہتھنیوں میں فی الحال کوئی بیماری کے آثار نہیں، تفصیلی معائنہ ضروری ہے۔
فورپاز کے مطابق ہتھنیوں کی صحت جانچنے کےلیے الٹراساؤنڈ، خون کے نمونے اور ٹی بی اسکریننگ ہوگی۔ ملکہ اور مدھوبالا کےلیے خصوصی علاج معالجے کا منصوبہ بنایا جائے گا، ہتھنیوں کےلیے مثبت تربیتی پروگرام متعارف کروایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔