ایلون مسک کی اسٹار لنک سروس پاکستان میں کب تک دستیاب ہو گی؟ ،حکومت نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
ایلون مسک کی اسٹار لنک سروس پاکستان میں کب تک دستیاب ہو گی؟ ،حکومت نے بتادیا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسٹار لنک کے ساتھ معاملات کو جلد از جلد مکمل کرنے کی سفارش کردی ہے جبکہ پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ اسٹار لنک کے ساتھ معاملات تقریبا حتمی مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور رواں سال جون تک اسٹار لنک کی سروسز یہاں دستیاب ہوں گی۔
چیئرمین قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی امین الحق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی سال 25-2024کے لیے وزارت آئی ٹی کا پی ایس ڈی پی فنڈ اور دیگر اہم منصوبے زیر بحث آئے۔امین الحق نے حکام کو ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کے لائسنس کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔اسٹار لنک کے لائسنس کے معاملے پر کمیٹی کے رکن بیرسٹر گوہر نے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکریٹری برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ دو سال پہلے جب اسٹار لنک نے اجازت مانگی تھی، تب ہمارے پاس کوئی ریگولیٹری اتھارٹی نہیں تھی۔
چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسٹار لنک کے علاوہ ایک چینی کمپنی نے بھی لائسنس کے لیے اپلائی کیا ہے تاہم افسوس کی بات ہے کہ 2022 سے 2025 تک صرف بات چیت ہی چل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک حکم جاری کرتے ہیں کہ جلد از جلد اسٹار لنک کا لائسنس مکمل کیا جائے۔اس موقع پر کمیٹی کے رکن احمد عتیق نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ڈیٹا سیکیورٹی بہت بڑا مسئلہ ہے اسی لیے مجھے اسٹار لنک پر اعتبار نہیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے شہریوں کا ڈیٹا محفوظ ہوگا یا نہیں۔انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹوٹی پر چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی اے نے ریونیو کی صورت میں گزشتہ 6 برسوں میں 1700 ارب روپے حکومت کو دیئے تاہم حکومت نے گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے میں ایک روپے کی بھی سرمایہ کاری نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی تیزرفتار کنیکٹوٹی فائبرکیبلز بچھانے سے آتی ہے، بھارت سے سیکھ لیں مودی حکومت نے ٹیلی کام سیکٹر میں کنیکٹوٹی پر 13ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔رکن کمیٹی مصطفی کمال نے چیئرمین پی ٹی اے سے سوال کیا کہ کنیکٹوٹی پر کام کرنے کے لیے کیا پی ٹی اے کے پاس کوئی تجویز یا پلان ہے جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ فائبرائزیشن پالیسی پروزارت آئی ٹی کام کر رہی ہے۔قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ اسٹار لنک کے ساتھ معاملات تقریبا حتمی مرحلے پر پہنچ چکے ہیں رواں سال جون تک اسٹار لنک کی سروسز یہاں دستیاب ہوں گی۔اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین نے ملک میں انٹرنیٹ مسائل پر برہمی کا اظہار کیا، رکن احمد عتیق نے کہا کہ لاہور سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر بھی انٹرنیٹ نہیں آ رہا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اکثر جگہوں پر انٹرنیٹ نہیں، ہمارے بچے مجبور ہیں کہ ان علاقوں سے نکل کر شہروں کے اندر آئیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے جواب میں کہا کہ جہاں بزنس نہیں ہوتا وہاں کمپنیاں جانے سے گریزاں ہیں، ہم کمپنیوں کو کچھ جگہوں پر پابند کرتے ہیں کہ ٹاور لگائیں۔رکن کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ معاملے کو ذاتی نہ لیں آپ ریگولیٹر ہیں آپ کی ذمہ داری ہے ان کو ریگولیٹ کرنا، شیر علی ارباب نے کہا فائیو جی چلنا تو محال میرا فون دو دن سے صرف ای پر چل رہا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ 6 سال میں پی ٹی اے نے حکومت کو 1700 ارب کا ریونیو دیا لیکن ٹیلی کام سیکٹر میں ایک پیسہ بھی نہیں لگایا گیا، مجھے بتائیں حکومت نے ٹیلی کام سیکٹر میں کتنا پیسہ لگایا؟۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی نے 35 لاکھ کلومیٹر فائبر بچھایا، انڈیا نے ٹیلی کام سیکٹر میں 13 ارب ڈالر خرچ کیے، اس پر شیر علی ارباب نے کہا کہ لہجہ ایسا نہیں رکھنا چاہیے یہ قائمہ کمیٹی کی میٹنگ ہے ،ان کیمرہ میٹنگ بلائیں پھر کوئی ایسی ٹون رکھے گا تو ہمیں بھی ہینڈل کرنا آتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آبادی 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر وہیں پر ہے، پی ٹی اے کمپنیوں کو ہدایت کرے کہ انفرا اسٹرکچر بہتر کرے، ٹیلی کام کمپنیوں کو کہیں انٹرنیٹ نہ ہونے سے طلبہ کا حرج ہو رہا ہے اور اسٹار لنک والا معاملہ ہو جائے تو بہت بہتر ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ 2024 میں 2 ہزار ٹیلی کام ٹاورز لگائے گئے، بونیر اور اس کے مضافات میں ٹاور تنصیب کے احکامات جاری کیے ہیں، اسٹار لنک اور اسپیس ریگولیٹری باڈی کے درمیان 90 فیصد بات ہو گئی ہے، 90 فیصد تک بات چیت مکمل ہونے کے بعد لائسنس کے اجرا میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے سفارش کی کہ اسٹار لنک کے ساتھ معاملات کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسٹار لنک دستیاب ہو حکومت نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔