پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی باصلاحیت اداکارہ تارا محمود کے نجی زندگی سے متعلق حالیہ انکشاف نے مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

تارا کے اداکاری سفر کا آغاز امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے اور کئی سال وہاں کام کرنے کے بعد ہوا اور جب وہ پاکستان واپس آئیں تو انہوں نے اداکاری کو بحیثیت کیریئر فل ٹائم جاب اختیار کرنے کا ارادہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑے اور کامیاب ڈراموں کا نمایاں کردار بننے لگیں۔

شائقین تارا محمود کی بے ساختہ، قدرتی اور جاندار اداکاری کے پہلے ہی سے مداح تھے، مگر انہیں اس وقت واقعی حیرت کا جھٹکا لگا جب برسوں بعد یہ انکشاف ہوا کہ وہ کسی عام گھرانے کی چشم و چراغ نہیں بلکہ پاکستان کے ایک نہایت بااثر سیاسی شخصیت کی صاحبزادی ہیں ۔

اس انکشاف نے نہ صرف ان کے مداحوں کو چونکا دیا بلکہ شوبز انڈسٹری میں بھی ہلچل مچا دی، کیونکہ تارا نے ہمیشہ اپنی پہچان صرف اور صرف اپنے فن کے ذریعے بنائی تھی، نہ کہ خاندانی پس منظر کے سہارے۔

تارا محمود کے والد شفیق و تعلیم دوست سیاستدان شفقت محمود ہیں، جو پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہیں کووِڈ کے دوران تعلیمی شعبے میں طلبہ کے حق میں کیے گئے فیصلوں بالخصوص امتحانات منسوخ کرنے، آن لائن کلاسز شروع کرنے اور نئی تعلیمی پالیسی لانے کی وجہ سے نوجوانوں میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔

ان کی شفاف اور سنجیدہ شخصیت کی وجہ سے انہیں سیاست کے ساتھ ساتھ تعلیم، ثقافت اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بھی ایک وژنری شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

 

 

جب سوشل میڈیا پر تارا اور ان کے والد کی مشترکہ تصاویر وائرل ہوئیں تو مداح یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وہ ایک سیاستدان کی بیٹی ہیں۔

احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کے دوران تارا محمود نے بتایا کہ ان کے چند قریبی دوستوں کو ان کے والد کے بارے میں علم تھا، لیکن کراچی میں یا شوبز انڈسٹری کے کسی اور شخص کو ان کے سیاسی پس منظر کا علم نہیں تھا۔

 

 

تارا کا کہنا تھا کہ۔ یہ فیصلہ میرا اپنا تھا کیونکہ یہ میرے لیے سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی بہتر تھا۔ میں نے کبھی اپنے والد کے اثر و رسوخ یا شہرت کا فائدہ نہیں اٹھایا۔

 یہ انکشاف کیسے ہوا؟ تارا نے بتایا کہ جب وہ ڈرامہ چُپکے چُپکے کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ ڈائریکٹر دانش نواز نے ان سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وزیر کی بیٹی ہیں اور سیکیورٹی کے ساتھ کیوں نہیں آتیں اور ایک عام سیلیبریٹی کی طرح نظر آرہی ہیں اس پر تارا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی پہچان صرف بطور اداکارہ ہی بنانا چاہی۔

تارا کا کہنا تھا کہ اس خبر اور والد کے ساتھ تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بھونچال سا آگیا تھا جس سے میں کافی پریشان ہو گئی تھی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے اپنی خاندانی اور سیاسی شناخت لوگوں میں ظاہر نہیں کی تھی۔

آج تارا محمود اپنے فن، پیشہ ورانہ رویے اور خوداعتمادی کی بدولت ڈرامہ انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور ان کی یہ عاجزی ان کے مداحوں کے دل جیت رہی ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تارا محمود

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا