حزب المجاہدین کے رہنما کے قتل میں ملوث مجرم کو 2 بار سزائے موت کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے حزب المجاہدین کے رہنما بشیر احمد پیر عرف امتیاز عالم کے قتل کیس میں مجرم شاہ زیب نیئر عرف زیبی کو 2 مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔
عدالت نے مجرم شاہزیب کو قتل، دہشتگردی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے فنڈنگ وصول کرنے کے الزام میں 11 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کا حکم بھی سنایا ہے جبکہ کیس میں نامزد دیگر 5 ملزمان کو انڈین ایجنسی را سے رابطے، فنڈنگ وصول کرنے اور دہشتگردی کے الزامات پر مجموعی طور پر 76 سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ کی پاکستان میں دہشت گردی کا بھارتی سوشل میڈیا پر اعتراف
واضح رہے کہ ایک عرصے سے انڈین ہٹ لسٹ پر موجود حزب کمانڈ کونسل کے رکن بشیر احمد پیر کے والد اور بھائی کو انڈین آرمی نے مقبوضہ کشمیر میں قتل کر دیا تھا اور گھر جلا دیا تھا۔ جبکہ بشیر احمد پیر کو 20 فروری 2023 کو اسلام آباد کے علاقے برما ٹاؤن میں ٹارگٹ کلرز کے ذریعے قتل کردیا گیا تھا۔
عدالت نے راولپنڈی کے رہائشی شاہزیب نیئر عرف زیبی کو اسلام آباد میں حزب المجاہدین کے رہنما بشیر احمد کے قتل میں قصوروار قرار دے کر 2 بار سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انسداد دہشتگردی عدالت حزب المجاہدین رہنما سزا سزائے موت قید مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت حزب المجاہدین سزائے موت حزب المجاہدین سزائے موت کا حکم
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک