علی امین گنڈا پور کی ’مِنی اے پی سی‘ پشاور میں ہونی چاہیے تھی، فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے ایک کانفرنس بلائی تھی، جس میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن سیاسی جماعتوں نے بہت کم شرکت کی۔ علی امین گنڈا پور کی مِنی اے پی سی پشاور میں ہونی چاہیے تھی جو اسلام آباد میں بلائی گئی۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ میں ان سات آٹھ جماعتوں کا احترام کرتا ہوں جنہوں نے شرکت کی۔ لیکن چند جماعتوں کے بجائے تمام اہم جماعتوں کو بلانا چاہیئے تھے۔ اس لیے اس میٹنگ کو اے پی سی نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے فوجیوں، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی شہادتیں دیکھ رہے ہیں، ان کے جنازے اٹھا رہے ہیں جبکہ افغان حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان تمہاری حیثیت نہیں کہ عمران خان کے ساتھ بیٹھ سکو، علی امین گنڈا پور
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو دہشتگردی ہو رہی ہے، وہ افغانستان سے ہو رہی ہے، انہیں بارہا اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ لیکن افغان حکومت اس ضمن میں کچھ نہیں کر رہی، ایسا نہ ہو کہ ہمیں اپنے دفاع میں جوابی حربہ استعمال کرنا پڑے۔ صوبائی وفد بھیجا مناسب نہیں، اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ بات ہو نی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سیاستدانوں کا اہم فورم ہے، لیکن صوبائی حکومت نے کبھی امن و امان کے مسئلے پر اسمبلی میں بحث یا بات چیت نہیں کی، یہاں فوج کے خلاف بھی قرارداد پاس ہوئی، جسے حذف تک نہیں کیا گیا، لیکن امن و امان پر کوئی توجہ نہیں۔ صوبے کے امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری ان کیمرا اجلاس بلانا چاہیے، اس موضوع پر سیاست کی قطعی ضرورت نہیں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جن کرتوتوں پر 14 سال کی سزا ہوئی، صوبے کے لوگ خوش ہیں، اس لیے ان کی سزا پر کہیں پر امن احتجاج بھی نہیں ہوا۔ ان کی پنجاب میں کوئی لیڈر شپ نہیں، چند لوگ ہیں جو ایک گاڑی میں آ سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانی پی ٹی آئی پشاور فیصل کریم کنڈی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی پشاور فیصل کریم کنڈی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی علی امین گنڈا پور فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا ہو رہی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔