محسن نقوی کاکرک میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 فروری2025ء)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں نے اپنے خون سے وطن عزیز کے امن کی آبیاری کی ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کرک میں پولیس چوکی بہادر خیل پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعہ مذمت کی اور فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
(جاری ہے)
محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور واقعہ میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں پولیس چوکی پر بزدلانہ حملہ کیا، خیبرپختونخوا پولیس کے شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں، خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ کے پی کے پولیس کے بہادر سپوتوں نے خون سے وطن عزیز کے امن کی آبیاری کی ہے، خیبرپختونخوا پولیس کی لازوال قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خیبرپختونخوا پولیس پولیس اہلکاروں محسن نقوی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔