سعودی عرب میں واٹس ایپ کالز کی سہولت بحال ہونے کی اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 فروری 2025ء ) سعودی عرب میں 6 سال بعد واٹس ایپ کالز کی سہولت دوبارہ بحال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق سعودی عرب میں واٹس ایپ کے بہت سے صارفین نے اطلاع دی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کالنگ کی سہولت برسوں کی پابندی کے بعد دوبارہ ایکٹیویٹ کر دی گئی ہے، تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ آیا یہ مستقل تبدیلی ہے یا عارضی طور پر کسی تجرباتی بنیاد پر ایسا ممکن ہوا۔
اس حوالے سے مقامی ٹیکنالوجی کے ماہر عبداللہ السبیعی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بڑھانے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے، جس سے صارفین کے لیے ممکنہ طور پر مواصلات میں بہتری آئے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ ایپس میں سے ایک واٹس ایپ نے 2015ء میں وائس کالز اور 2016ء میں ویڈیو کالز متعارف کرائی تھیں، تاہم سعودی عرب میں ریگولیٹری پالیسیوں کی وجہ سے ان خصوصیات کو بلاک کر دیا گیا تھا اگرچہ کبھی کبھار مختصر ایکٹیویشن کی رپورٹس آتی رہی ہیں لیکن وہ عام طور پر پالیسی شفٹوں کی بجائے تکنیکی اپ ڈیٹس سے منسلک ہوتی تھیں۔(جاری ہے)
معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے مارچ 2024 میں بھی قیاس آرائیاں ہوئیں کہ پابندی مستقل طور پر ہٹا دی گئی ہے لیکن سعودی عرب کے کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کی جانب سے اس وقت ان دعوؤں کی تردید کی گئی، تاہم اگر موجودہ ایکٹیویشن مستقل ثابت ہوتی ہے تو یہ مملکت کے اندر رابطے میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرے گی۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے واٹس ایپ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔