جسٹس بابرستار : فوٹو فائل

جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کو 6 صفحات پر مشتمل خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ٹرانسفر ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے ہائیکورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی تبدیلی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے نوٹیفکیشن واپس لیے جائیں۔

اپنے خط میں جسٹس بابر ستار نے سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن فائل کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، بغیر اسلام آباد ہائیکورٹ جج کے حلف اٹھائے ٹرانسفر ججز کو کمیٹی میں رکھنا غیر قانونی ہے،  ٹرانسفر نوٹیفکیشن میں کہیں نہیں لکھا کہ ٹرانسفر عارضی ہے یا مستقل ہے۔

سپریم کورٹ کے 4 ججوں کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کرنے کی درخواست

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھنے والوں میں جسٹس منصور، جسٹس منیب اختر ، جسٹس عائشہ اور جسٹس اطہر شامل ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آرٹیکل194 کے تحت ہمارے معزز ساتھی ججز نے اپنی اپنی ہائیکورٹس کا حلف اٹھا رکھا ہے، حلف میں تینوں ججز نے کہہ رکھا ہے وہ اپنی اپنی ہائیکورٹس میں بطور جج اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفر کے بعد تینوں ججز نے حلف نہیں اٹھایا جو ضروری تھا، حلف کے بغیر وہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی ڈیوٹی شروع نہیں کر سکتے تھے، ان ججز کو حلف کے بغیر جوڈیشل اور انتظامی کام کے لحاظ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج نہیں کہا جا سکتا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ آپ کی زیر نگرانی تینوں ججز آرٹیکل 194 کیخلاف ورزی میں بغیر حلف 3 فروری سے جوڈیشل کام شروع کر چکے ہیں، آرٹیکل194 کے تحت بطور چیف جسٹس آپ کی ذمہ داری تھی کہ آپ تینوں ججز سے حلف لیتے، بغیر حلف ججز سے جوڈیشل اور انتظامی کام لینا ان کیلئے بعد میں شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس بابر ستار نے سینیارٹی لسٹ تینوں ججز چیف جسٹس

پڑھیں:

این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

فائل فوٹو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔  

حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔  

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ 

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس