بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کروانے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کیخلاف درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
عدالتی احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی سے جیل میں ملاقات نہ کرانے پر بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔
ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل فرید چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار سابق وزیر اعظم ہیں اور جعلی مقدمات میں اڈیالہ جیل میں سزا بھگت رہے ہیں۔
ان کی فیملی اور وکلا سےجیل میں ملاقات کے لیے باقاعدہ شیڈول دیا گیا تھا، بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل میں ہی قید ہیں۔
28 جنوری کو عدالت نے حکم دیا کہ قواعد و ضوابط (ایس او پی) کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی ان کی اہلیہ سے ملاقات کرائی جائے، تاہم ملاقات نہیں کروائی گئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، عدالتی احکام کی خلاف ورزی پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جیل میں
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔