امریکی جزیرے کیریبین میں 7.6 شدت کا زلزلہ، سونامی وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
نیویارک ( نیوز ڈیسک )امریکی مانیٹرنگ ایجنسیوں نے بتایا کہ ہفتے کے روز کیمین جزائر کے ساحل سے تقریباً 130 میل (209 کلومیٹر) دور بحیرہ کیریبین میں 7.6 شدت کے زلزلے نے ہلچل مچا دی، حکومت نے سونامی وارننگ جاری کردی
امریکی جیولوجیکل سروے نے کہا کہ زلزلہ کم گہرائی میں آیا۔امریکی بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر نے کہا کہ تمام دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر اس زلزلے سے سونامی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے اور اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اس سے قبل سونامی وارننگ سسٹم نے کہا تھا کہ کیوبا کے کچھ ساحلی علاقوں میں تقریباً 10 فٹ (تین میٹر) تک اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں، جب کہ تین فٹ تک کی لہریں ہونڈوراس اور کیمن جزائر سے ٹکرا سکتی ہیں۔جزائر کیمن کی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو اندرون ملک منتقل ہونے کی تنبیہ کی تھی۔
سونامی کے خطرے کی ابتدائی وارننگ میں ایک درجن سے زائد ممالک شامل تھے۔زلزلے کے تقریباً تین گھنٹے بعد، امریکی حکام نے خبردار کیا کہ 30 سینٹی میٹر (11.
امریکی سونامی وارننگ سینٹر نے بتایا کہ میکسیکو کے مشرقی ساحل پر واقع اسلا مجیرس میں سونامی کی پیمائش کرنے والے گیج نے زلزلے کے بعد چار سینٹی میٹر (0.1 فٹ) کی زیادہ سے زیادہ اونچائی والی لہر کی پیمائش کی۔
سعودی عرب کا یوم تاسیس، حکومت کا20 اور 22 فروری کو عام تعطیل کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سونامی وارننگ
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔