پاکستان میں معاشی استحکام: حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کا اثر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
پاکستان کی معیشت میں حالیہ برسوں میں قابلِ ذکر بہتری آئی ہے، جس کی بدولت ملک اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، حکومتی پالیسیوں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کی مثبت ریٹنگ پاکستان کی معیشت میں بہتری کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور اسٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اقتصادی استحکام کے حوالے سے نمایاں کاروباری شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار پیغامات کے ذریعے کیا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرعاطف اکرم شیخ صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام انڈیکیٹرز مثبت ہیں، معیشت مستحکم ہے، سرمایہ کاری فوری طور پر آ رہی ہے اور اسٹاک ایکسچینج اپنے عروج پر ہے، سود کی شرح کافی کم ہو چکی ہے، جہاں یہ 23 فیصد تھی، آج یہ 13 فیصد ہو گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ مزید کم ہوگی۔
عاطف اکرم شیخ نے کہا کہ شرح مہنگا ئی میں زبردست کمی آئی ہے، جو اب 5 فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے، جس سے حالات مزید بہتر ہو رہے ہیں، حکومت کی ایک مستحکم پالیسی ہے جس کی بدولت لوگوں کا اعتماد واپس آیا ہے۔
سی ای او ٹبا گروپ محمد علی ٹبا نے اس موقع پر کہا کہ سب سے پہلے، میں حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ کافی عرصے بعد پاکستان میں معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں اور مستحکم ہوتے جا رہے ہیں، معاشی خوشحالی کے انڈیکیٹرز مثبت ہیں جس میں آپ کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، کرنسی مستحکم ہے اور انفلیشن نیچے آ رہا ہے، ساتھ ہی شرح سود میں بھی کافی کمی آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ مستحکم ہے اور بہت اچھا پرفارم کر رہی ہے ، پہلے مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 25 ارب ڈالر تھی، اب ماشاءاللہ وہ بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
او آئی سی سی آئی کے سی ای او عبدالعلیم نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی معیشت جو کہ بحران سے گزر کر استحکام کی طرف بڑھی ہے، اس کے بعد تمام اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ہمارے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر جو تین بلین ڈالر سے بڑھ کر 12 بلین ڈالر ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے ہمارے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جو ڈیویڈنڈز اور ریمیٹنسز پھنسی ہوئی تھیں، وہ سب کلیئر کر دی ہیں، بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق، پاکستان کی ریٹنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا جو کاروباری اعتماد ہے، وہ بھی بہتر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی ریٹنگ میں بھی کچھ بہتری آئی ہے۔
عبدالعلیم نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نقطہ نظر میں بڑی بہتری آئی ہے، جو پہلے منفی تھا اور اب مثبت ہو گیا ہے۔
اس موقع پر پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او احسن ملک نے کہا کہ الحمدللہ، ایک بار پھر پاکستان میں معاشی استحکام آ رہا ہے، اور یہ عبوری حکومت اور موجودہ حکومت کی محنت کا نتیجہ ہے، یقیناً اس میں آئی ایم ایف پروگرام، ایندھن کی کم قیمتیں اور بڑھتی ہوئی ریمیٹنسز کا بڑا کردار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ ملکی سرمایہ کا بہتری آئی ہے پاکستان کی کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔