نئے ججز کی تعیناتی: چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
نئے ججز کی تعیناتی: چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں ہوگا، جس میں سپریم کورٹ کے 8 ججوں کی تعیناتیوں پر غور کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کیلئے پانچوں ہائی کورٹس کے 5 سینئر ججز کے نام طلب کئے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے 4 ججز سمیت ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے اجلاس ملتوی کرنے کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھ رکھا ہے۔
وکلاء تنظیموں کا متوقع احتجاج، سپریم کورٹ جانے والے راستے بند
دوسری جانب وکلاء تنظیموں کے شاہراہ دستور پر متوقع احتجاج کے باعث سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں، اسلام آباد میں ریڈزون کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے احاطے میں بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
سپریم کورٹ جانے کیلئے صرف مارگلہ روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے جس سے اطراف میں شدید ٹریفک جام ہے، جبکہ جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس بھی محدود کر دی گئی ہے، میٹروبس سروس فیض احمد فیض تک چلائی جا رہی ہے جبکہ کشمیر ہائی وے تا پاک سیکرٹریٹ تک میٹرو بس سروس بند ہے۔
یاد رہے کہ آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی نے آج شاہراہ دستور پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، کے پی کے بار کونسل، بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹس بارایسوسی ایشن نے آج ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا ہے۔
بار کونسل ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم قانونی برادری کے منتخب نمائندے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر انتشاری لوگوں کی کال کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہڑتال کی کال کا فیصلہ صرف اور صرف منتخب قانونی باڈیز کر سکتی ہیں، ہم ایسی ہڑتالوں کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور یہ ہڑتال پہلے کی طرح ایک دفعہ پھر ناکام ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن کا اجلاس نئے ججز کی چیف جسٹس
پڑھیں:
پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
سٹی 42 : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی، ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا، بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی
ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے، وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے، عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔
لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانبدار تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔