کراچی سے تھر ڈیزرٹ سفاری سیاحتی ٹرین کا آغاز کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
کراچی:
پاکستان ریلویز کے تعاون سے سندھ حکومت نے کراچی سے تھر ڈیزرٹ سفاری سیاحتی ٹرین کا آغاز کر دیا ہے۔مزید سیاحتی ٹرینوں کی بحالی کے لیے صوبائی حکومتوں کا تعاون ضروری ہے کیونکہ سیاحت کے لیے درکار فنڈز صوبوں کے پاس ہوتے ہیں ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر علی بلوچ نے ای کچہری میں عوامی سوالات کے جواب دیتے ہوئےکیا۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر علی بلوچ نے کہا کہ پاکستان ریلویز ایک وفاقی ادارہ ہے اور مسافروں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے لیکن صفائی ستھرائی میں عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ کھانے پینے کی باقیات صرف کچرا دان میں ڈالیں تاکہ ٹرینوں اور اسٹیشنز کی صفائی برقرار رکھی جا سکے۔
عامرعلی بلوچ نے کہا کہ نئی ٹرینوں کے اجرا کے لیے خاطر خواہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ جیسے ہی مطلوبہ وسائل دستیاب ہوں گے، ہم نئی ٹرینز چلانے کا عمل شروع کریں گے۔ ایم ایل-ٹو پر ابھی کافی کام ہونا باقی ہے اور بند کی گئی ٹرینوں کو بھی وسائل کی فراہمی کے ساتھ مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔
لنڈی کوتل ریلوے ٹریک کی بحالی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں سی ای او پاکستان ریلویز کا کہنا تھا کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک ریلوے ٹریک کی بحالی پر 10 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ اگر وسائل دستیاب ہوئے تو اس منصوبے پر کام کیا جائے گا، چیف ایگزیکٹو آفیسر نے رابطہ ایپلیکیشن کو مزید آسان اور یوزر فرینڈلی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
ریلوے اسکولز کی بہتری کےحوالہ سے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز کے اسکولز کی بہتری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں تاکہ ریلوے ملازمین کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔
ای کچہری میں88 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی جبکہ تقریباً 7 ہزار 8 سو کے قریب کمنٹس موصول ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ریلویز کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔