نئے چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کے ناموں پر غور کر رہے ہیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کے لیے مختلف ناموں پر غور کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج الیکشن کمیشن میں ہمارا کیس تھا، الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ دلائل سے پہلے ہمارا ریکارڈ بازیاب کروایا جائے، پی ٹی آئی کے ڈیٹا پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ 3 مارچ کو پارٹی الیکشن کرایا، ہمارا الیکشن صاف اور شفاف تھا ،پانچ میں سے چار درخواست گزاروں نے انٹرا پارٹی انتخابات میں کسی طور پر حصہ نہیں لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بعد جنہوں نے پارٹی الیکشن کرائے انہیں کلیئرنس سرٹیفیکیٹ ملا، ہمیں ابھی تک کلیئرنس سرٹیفیکیٹ نہیں ملا ،پانچواں درخواست گزار جو اکبر ایس بابر کا ساتھی ہے اسے پارٹی سے بہت عرصہ قبل نکالا جا چکا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے 7 سوالوں کے جواب ہم پہلے ہی جمع کرا چکے تھے، چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران اپنی آئینی مدت پوری کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔