حکومت اورا سمبلیاں جعلی ،حکمرانوں کو ملک کی پرواہ نہ عوام کی فکر ہے ، شاہدخاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
سربراہ عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ کرپٹ اشرافیہ کی ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، یہ سچ ہے کہ آج پورا ملک پریشان ہے، ملک میں ٹینکرز کی تعداد بڑھ گئی ہے، ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی گیس اسمگل ہو رہی ہے، پائپ لائن ہونے کے باوجود تیل ٹینکروں سے بھیجا جاتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اشرافیہ نالائق یا کرپٹ ہے تو اس کی ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، ملک میں متنازع الیکشن ہوئے ہیں، موجودہ حکومت عوامی نمائندہ نہیں ہے، ملک کےعوام حکمرانوں سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹینکر مافیا پائپ لائن کو چلنے ہی نہیں دیتا، پائپ لائن کے استعمال سے اخراجات میں کمی آئے گی لیکن ہم اس پائپ لائن استعمال نہیں کر پا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رول آف لاء لے آئیں ملک چلنے لگےگا، ملک کا تنخواہ دار طبقہ ساڑھے 38 فیصد ٹیکس دیتا ہے، حکومت کو اضافی اخراجات کیلئے اضافی قرض لینا پڑتا ہے، ملکی معیشت سکڑ رہی ہے، آپ اسے کامیاب ملک کہہ سکتے ہیں؟
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کی فکر عوام کے ووٹ سے آنے والے کرتے ہیں، سیاستدان کا احتساب الیکشن میں ہوتا ہے، یہ حکومت اورا سمبلیاں جعلی ہیں، ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ اپنی تنخواہیں 400 فیصد تک بڑھا لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کہاں پہنچ چکی ہے، حکمرانوں کو ملک کی پرواہ ہے نہ ہی عوام کی فکر ہے، سیاستدان کا احتساب پولنگ اسٹیشن میں ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پائپ لائن نے کہا کہ ملک میں نہیں ہے
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت