عمران خان کے خطوط کاپیغام پہنچ گیا کہ فوج اور پی ٹی آئی میں کوئی خلیج نہیں ہونی چاہیئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 11 فروری 2025ء ) سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ عمران خان کے خطوط کاپیغام پہنچ گیا کہ فوج اور پی ٹی آئی میں کوئی خلیج نہیں ہونی چاہیئے،ہمیں بانی کے خط کا کوئی جواب نہیں چاہئے، ہم صرف ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی تنخواہوں میں اضافے پر عمران خان سے بھی بات کی ہے ، پی ٹی آئی کا مئوقف ہے کہ تنخواہیں نہیں بڑھنی چاہئیں، قوم مشکلات میں ہے، بے روزگار ی میں اضافہ ہورہا ہے، معاشی گروتھ صفر فیصد ہے، بالادست طبقے منتخب ارکان کو زیب نہیں دیتا کہ زیادہ تنخواہیں لیں، ان کو اپنے حوالے سے قانون سازی ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔
پی ٹی آئی ارکان فیصلہ کریں گے کہ اضافی تنخواہ کو فلاحی کام پر خرچ کیا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خطوط وہاں پہنچ گئے جہاں پہنچنا چاہیئے تھااور پڑھ بھی لئے گئے، پیغام پہنچ گیا ہے کہ فوج اور پی ٹی آئی میں کوئی خلیج نہیں ہونی چاہیئے۔ عمران خان کے خط کا ہمیں کوئی جواب نہیں چاہئے، ہم صرف ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں عوام کو بتانا چاہتے کہ فوج اور پی ٹی آئی میں کوئی خلیج نہیں ہے۔
خط میں مقتدر حلقوں کو بتایا گیا ہے کہ آئین قانون کی پامالی والی روش ٹھیک نہیں ہے، یہ چھوڑ دیں۔ مزید برآں رہنماء پی ٹی آئی سینیٹرہمایوں مہمند نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پہلے جتنے بھی آئی ایم ایف پروگرام ہوئے، کبھی آئی ایم ایف وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات نہیں کی، اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کونسی ایسی چیز ہوئی ہے کہ عدالت میں جاکر جائزہ لینا پڑتا ہے۔ اس سے ہمیں دو چیزیں نظر آتی ہیں، ایک چیز کہ ججز کی تقرریاں ہوئی ہیں، اس کی بنیادی وجہ آئینی ترامیم ہیں۔تینوں اداروں ایگزیکٹو، پارلیمان اور عدلیہ کا مقصد کہ اپنی حدود میں رہیں گے۔ پارلیمان کا کام قانون سازی ہے، بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ حکومت نے قانون میں تبدیلیاں کردی ہیں، ججز کی تقرریوں میں اب ایگزیکٹو کا اثرورسوخ شامل کردیاگیا ہے، حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی قانون اس کی توثیق کردے گا۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ حکومت نے 7مہینوں میں ایک فیصد جی ڈی پی گروتھ شو نہیں کی، اس سال ہدف 3.5جی ڈی پی رکھا گیا تھا، عوام سے پوچھ لیں آج پی ٹی آئی دور سے زیادہ چیزیں مہنگی ہیں، مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہوئی ہے مہنگائی کم نہیں ہوئی۔پی ٹی آئی جی ڈی پی گروتھ 6فیصد پر چھوڑ کر گئی تھی یہ منفی پر لے گئے۔حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 5فیصد تک مقرر کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کے کہا کہ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔