فوٹو: فائل

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز کے بعض معاملات میں طرز عمل ایسا ہے کہ ریفرنس بنایا جاسکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں کیا ہوتا رہا ہے، 8 جج ایک طرف ہوتے تھے 7 دوسری طرف ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ خط لکھ کر میڈیا کو جاری کیے جاتے تھے، سلمان اکرم راجہ سیاسی ایجنڈے کو سامنے رکھ کر بات کریں تو یہ ان کی مرضی ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ کیا آئین میں ایسا کچھ ہے کہ ٹرانسفر کی وجوہات بیان کی جائیں؟ آئین میں یہ لکھا ہے کہ جج کی ٹرانسفر پر متعلقہ جج کی رضامندی شامل ہو۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ دو سینئر ججز کا عمومی رویہ ایسا ہے ہر معاملے پر خط لکھ دیتے ہیں۔ خط جس کو لکھا جاتا ہے اس کو بعد میں ملتا ہے پہلے میڈیا میں آجاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ایسے پروپیگنڈا کا موجب بنیں جو پورے ادارے کو بدنام کرے، اس کو مس کنڈکٹ سے جوڑا جاسکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کبھی کابینہ میں زیر بحث نہیں آیا۔ وہ سپریم کورٹ میں کام چلنے نہیں دے رہے، ہر معاملے پر اختلاف کرتے ہیں، بائیکاٹ کرتے ہیں یا خط لکھتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا جج ہائی کورٹ میں ٹرانسفرنہیں ہوسکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ