ویب ڈیسک:   چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز ری پریزنٹیشن سے متعلق فیصلہ جاری کر دیا۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سنیارٹی تبدیلی کے خلاف 5 ججز کی ری پریزنٹیشن مسترد کر دی گئی، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اور جسٹس ثمن رفعت کی ری پریزنٹیشن مسترد کی گئی۔

 چیف جسٹس عامر فاروق نے ہائی کورٹ رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی متعلقہ ججز کو بھیجنے کی ہدایت کر دی، 3 ہائی کورٹس سے ججز کے تبادلے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبدیل سنیارٹی لسٹ برقرار رکھی گئی۔

قدیم اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ پاکستان ریلوے اکیڈمی والٹن

 لاہور ہائی کورٹ سے اسلام آباد آنے والے جسٹس سرفراز ڈوگر سینئر پیونی جج برقرار ہیں۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے جاری کردہ فیصلے کے مطابق ہائی کورٹس سے ٹرانسفر ہونے والے ججز کو دوبارہ حلف کی ضرورت نہیں، ججز کی تعیناتی اور ٹرانسفر میں فرق ہے اور دونوں مختلف باتیں ہیں۔

 چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ بھارت میں تو ججز کا ٹرانسفر عام بات ہے اور بھارت کی طرح پاکستان میں ٹرانسفر پالیسی نہیں لیکن صدر ٹرانسفر کرسکتے ہیں۔

"شاہین، نسیم کو ٹیم سے باہر کرو" سابق کرکٹر کا مطالبہ

 بھارتی ہائی کورٹس کے ججز کے حلف کا متن بھی عدالتی فیصلے میں شامل کیا گیا، فیصلے میں کہا گیا کہ جب جج ٹرانسفر ہوتا ہے تو ہائی کورٹ جج کے طور پر اسٹیٹس رہتا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا اور آئین کا آرٹیکل 200 جج کے ایک ہائیکورٹ سے دوسری میں ٹرانسفر سے متعلق ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ہائی کورٹ

پڑھیں:

این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

فائل فوٹو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔  

حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔  

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ 

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی