پونچھ: بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھارتی فوجی ہلاک، جے سی او سمیت 2 اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) سمیت 2 اہلکار زخمی ہو گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ دھماکہ ضلع پونچھ کے علاقے کرشنا گھاٹی میں اُس وقت پیش آیا جب بھارتی فوج کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے۔ بھارتی فوج کی وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گشت کے دوران للت کمار نامی اہلکار بارودی سرنگ کی زد میں آ کر موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ ایک جے سی او سمیت 2 دیگر اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ہلاک ہونے والا اہلکار ’اگنی ویر اسکیم‘ کے تحت فوج میں شامل کیا گیا تھا۔
بھارتی فوج کی ’اگنی ویز اسکیم‘ کیا ہے؟یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے جون 2022 میں یہ متنازعہ اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت 17 سے 21 سال کی عمر کے نوجوانوں کو صرف چار سالہ مختصر مدت کے لیے فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے۔
اس اسکیم پر بھارت بھر میں خاصی تنقید ہوئی ہے، متعدد ریاستوں میں نوجوانوں نے احتجاج کیا، کیونکہ اس اسکیم کے تحت نہ تو مستقل ملازمت کی ضمانت ہے اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کے بعد روایتی فوجی مراعات۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگنی ویر اسکیم‘ سے نہ صرف نوجوانوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے، بلکہ اس سے بھارتی فوج کے پیشہ ورانہ معیار اور حوصلے پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارودی سرنگ پونچھ للت کمار مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پونچھ للت کمار بھارتی فوج
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن