کراچی(رپورٹ / واجدحسین انصاری) مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے دباؤ اور روزنامہ ’’جسارت‘‘کی نشاندہی کے بعد حکومت سندھ نے کراچی میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے جان لیوا حادثات خاص طورپر ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز ڈرائیورز کے غفلت اور تیز رفتاری سے انسانی جانوںکے مسلسل اتلاف کو روکنے کے لیے موجودہ ٹریفک قوانین میں ترمیم کرکے سخت سزاؤں کا قانون لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ صوبائی وزرات قانون کو اس حوالے سے فوری طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میںکراچی میں یکم جنوری سے اب تک ٹریفک حادثات میں 105 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔یہ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات انسانی المیے کے ساتھ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بھی بن گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو بھی ان واقعات کے خلاف جارحانہ تقاریر اور مبینہ طور پر ڈمپرز اور ٹرک کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر اس معاملے کو لسانی شکل دینے کی بھی کوشش کررہے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اب تک حکومت سندھ کی جانب سے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا تھا اور تمام امور معمول کے مطابق چلائے جارہے تھے تاہم دبا ؤاور معاملے کو تشدد کی طرف جاتے ہوئے دیکھنے کے بعد حکومت سندھ کی صفوں میں کچھ ہلچل محسوس ہوئی ہے۔جس کے بعد موجودہ ٹریفک قوانین میں ترمیم کرکے سخت سزاؤں کا قانون لانے پرکام کرنا شروع کردیا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ قانون سے کہا گیا ہے کہ وہ مجوزہ ترمیمی مسودہ قانون تیار کرے جسے کابینہ سے منظوری کے بعد سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت سندھ کے زیر غور یہ تجویز بھی ہے کہ ڈمپر ،ٹینکرر ڈرائیورز کے ڈرگ ٹیسٹ کرائے جائیں، اگر کسی ڈرائیور کے ٹیسٹ سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ نشے کا عادی ہے تو اسے نہ صرف ڈرائیونگ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا بلکہ پہلے سے جاری ڈرائیونگ لائسنس بھی منسوخ کردیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حکومت سندھ کے بعد

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن