حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)مہران ورکرز یونین واسا حیدرآباد کی جانب سے ملازمین کو11ماہ کی تنخواہ اور پنشنز کی عدم ادا ئیگی کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے پہلے مرحلہ میں اولڈ کیمپس ایس ایس پی چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی میں بڑی تعداد میں واسا ملازمین،پنشنرز اور فوتی ملازمین کے لواحقین نے شرکت کی۔احتجاجی ریلی کے شرکا بینر اٹھائے ہوئے واسا انتظامیہ کے خلاف بھرپور نعرے بازی کر رہے تھے جبکہ ریلی کے شرکا نے پریس کلب پہنچ کر دھرنا دیاجس سے خطاب کرتے ہوئے مہران ورکرز یونین کے صدر آفتاب لاڑک،جنرل سیکرٹری محمد اسلم عباسی،بلاول ملاح،ارشاد علی،میر محمد ملاح اور ولیم نذیر نے کہا کہ گیارہ ماہ کی تنخواہ اور پنشنز سے محروم ملازمین کا صبر جواب دے گیا ہے،آج سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا گیا ہے اس وقت واسا ملازمین کے خاندان اور فوتی ملازمین کی بیوائیں اور ان کے یتیم بچے فاقہ کشی اور بھوک و افلاس کا شکار ہیں،ان کی زندگی غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے گر چکی ہے،تہوار تو دور کی بات یہ لوگ اب روزمرہ کی کھانے پینے کی اشیا کے حصول سے بھی قاصر ہیں،واسا انتظامیہ سے اگر بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کی ہمیں گورنمنٹ آف سندھ کی جانب سے جولائی 2024ء سے مارچ 2025ء تک کی تین کواٹرز کی رقم موصول ہوگی تو ہم ملازمین کو تنخواہ اور پنشنز کی ادائیگی کریں گے۔واسا انتظامیہ ماہانہ ریکوری سے تنخواہیں اور پنشنز کی ادائیگی کے لئے تیار نہیں ہیں ان کو اپنی عیاشیوں اور ناجائز اخراجات سے فرصت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن حیدرآباد کے لئے اپنے ذمے واجب الادا رقم کا فوری طور پر اجرا کرے تاکہ واسا ملازمین کا معاشی استحصال ختم ہو سکے،واسا انتظامیہ بھی اپنا قبلہ درست کرے اور17 فروری سے قبل ملازمین کو تنخواہ اور پنشنز کی ادائیگی شروع کرے۔بصورت دیگر شب برأت کا احترام کرتے ہوئے 17 فروری سے پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر دوسرے مرحلے کی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تنخواہ اور پنشنز واسا انتظامیہ واسا ملازمین اور پنشنز کی

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا