ایف آئی اے کورٹ کے باہر اے ایس آئی کی ہلاکت، ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
عرفان ملک: ایف آئی اے کورٹ کے باہر اے ایس آئی محمد شاہد کی تشدد سے ہلاکت کا واقعہ پیش آیا جس کےملزمان کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق انویسٹی گیشن ونگ کی ٹیم مزنگ میں ایک اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے گئی تھی۔ اشتہاری ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس ٹیم پر حملہ کر کے اے ایس آئی شاہد پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا۔
پنجاب پولیس کے آئی جی کی ہدایت پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی نگرانی ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے خود کی۔ 24 گھنٹے کے اندر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جنہوں نے واقعہ کے بعد موقع سے فرار ہو کر روپوش ہو گئے تھے۔
محکمہ اوقاف پنجاب میں بدعنوانی کا انکشاف، افسران معطل
ملزمان کو بنی گالہ اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا اور انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ ملزمان کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور اس نوعیت کے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ملزمان کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔