آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے آج بڑے کھلے انداز میں مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کی ہے۔

وہ پارلیمنٹ میں آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ آن کشمیر کے زیر اہتمام کشمیر کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ اجلاس میں دو درجن سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے شرکت کی اور صدر آزاد کشمیر سے مختلف سوالات بھی کیے۔

بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ بھی چاہتے ہیں کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت چاہتے ہیں۔ 

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کے منشور میں مسئلہ کشمیر شامل تھا، لیکن مجھے علم نہیں کہ وہ بدستور حصہ ہے کہ نہیں لیکن میری کوشش ہے کہ نہ صرف لیبر پارٹی بلکہ تمام جماعتیں اسے اپنے منشور کا حصہ بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر اپنے طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوشاں ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انھیں پوری امید ہے کہ یہ مسئلہ ان کی زندگی میں حل ہوجائے گا اسی لئے خدا نے زندہ رکھا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا یورپی پارلیمنٹ کا وفد مقبوضہ کشمیر گیا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کی خوبصورت ترین جیل ہے، رکن پارلیمنٹ عمران حسین نے کہا آج تقریباً 30 اراکین پارلیمنٹ میٹنگ میں شرکت ہوئے جو کہ اس بات کا غماز ہے کہ انھیں اس مسئلہ کے حوالے سے کس قدر تشویش ہے۔

انھوں نے کہا کہ حق خودارادیت کشمیریوں کو ملنا چاہیے اور برطانیہ کی اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

لارڈ قربان حسین نے کہا کشمیری قیادت کے برطانیہ آنے سے مسئلہ کشمیر اجاگر ہوتا ہے اور اس بات کی خوشی ہی برطانوی پارلیمںت ایسی جگہ ہے جہاں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے، میٹنگ میں متعدد اراکین پارلیمنٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے حل کی اراکین پارلیمنٹ انھوں نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت