ملتان: پیپلز پارٹی کے 4 ممبران اسمبلی اور وکلا کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
ملتان: جوڈیشل مجسٹریٹ شاہد حسن مغل کی عدالت نے کورونا وبا کے دوران حکومتی آرڈیننس کی خلاف ورزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں پیپلز پارٹی کے 4 ممبران اسمبلی اور متعدد وکلا رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق عدالت نے پولیس تھانہ چہلیک کو حکم دیا ہے کہ وہ نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں، عدالتی احکامات کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج تھا تاہم وہ بار بار عدالتی سمن کے باوجود پیش نہیں ہو رہے تھے، جس پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔
وارنٹ گرفتاری جاری ہونے والے افراد میں پیپلز پارٹی کے 4 اہم رہنما اور وکلا عہدیداران شامل ہیں، جن میں رکن قومی اسمبلی عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی،علی قاسم گیلانی، رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر گیلانی کے نام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، عدالت نے سابق ایم پی اے عثمان بھٹی سمیت متعدد ضلعی عہدیداران اور وکلا رہنماؤں کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
الزامات کی نوعیت
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، نامزد افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے کورونا وبا کے دوران حکومتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کی، عوامی اجتماعات منعقد کیے اور کارِ سرکار میں مداخلت کی، اس حوالے سے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم عدالت میں طلبی کے باوجود ملزمان پیش ہونے سے گریزاں تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔