لیفٹیننٹ محمد حسن اشرف شہید کی نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
سٹی 42 : شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے لیفٹیننٹ محمد حسن اشرف شہید کی نماز جنازہ لاہور گیریژن میں ادا کر دی گئی ۔
نماز جنازہ میں وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی، اس کے علاوہ وزیر دفاع ، وزیر اطلاعات، سینئر فوجی و سول حکام، شہید کے عزیز و اقارب نماز جنازہ میں شریک ہوئے ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹنٹ محمد حسن شہید کی بے مثال قربانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا، کہا کہ لیفٹننٹ محمد حسن شہید کی بے مثال قربانی ہمارے بہادر بیٹوں کے غیر متزلزل عزم اور جذبے کی مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے بہادر بیٹے ملکی سلامتی، دفاع اور خود مختاری کے لیے جانوں کا نظرانہ پیش کرتے ہیں، پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے اظہار یکجہتی کرتی ہے ۔
لاہور؛ زیر تعمیر عمارت کی دیوار گرنے سے 3 مزدور ملبے تلے دب گئے
21 سالہ لیفٹیننٹ محمد حسان شہید کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا ۔
سورس : آئی ایس پی آر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہید کی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔