کاروباری برادری کے مسائل کاحل اولین ترجیح ہے، ڈاکٹر ذوالفقار علی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
اسلام آباد(کامرس ڈیسک ) وزارت تجارت کے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے کہا ہے کہ تاجر برادری پاکستانی معیشت کی اصل محرک ہے اور حکومت درپیش چیلنجز سے ترجیحی بنیادوں پر نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر ہاؤس میں منعقدہ ’’اڑان پاکستان وژن، ایکسپورٹ ریگولیٹری چیلنجز اینڈ کیپیسٹی بلڈنگ فار دی ایکو سسٹم‘‘کے عنوان سے ایک انٹرایکٹو سیشن کے دوران کیا۔ڈاکٹر علی بھٹی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اہم چیلنجوں کے باوجود حکومت کی ثابت قدمی اور وزیراعظم شہباز شریف کی وڑنری قیادت میں تاجر برادری کے تعاون، محنت اور لگن سے ملک مشکل وقت سے نکلنے میں کامیاب ہو ا ہے۔ انہوں نے حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں کو ’’اڑان پاکستان وڑن‘‘ کی کامیابی کے لئے متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت کواجاگرکیا جو پاکستان کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے برآمدات، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیداری پر مرکوز ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ وزارت تجارت کاروبار کے لئے زیادہ شفاف اور قابل رسائی ماحول پیدا کرنے کے لیے کاروباری رہنماؤں اور کاروباری افراد کی استعداد کار میں اضافے سمیت تمام ضروری اقدامات کو اپنانے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لئے چیمبر کی قیادت اور متعلقہ محکموں بشمول کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور وزارت داخلہ کے اعلی حکام کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کرنے کا بھی عہد کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔