جسٹس ہاشم خان کاکڑ بلوچستان ہائیکورٹ میں منعقدہ الوداعی تقریب میں اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکتے اور آبدیدہ ہوگئے،ان کاکہناتھا کہ جب وکالت شروع کی تو مجھے کہا گیا چوکیدار کے بیٹے ہو کہیں ٹھیلہ لگا لو وکالت تمہارے بس کی بات نہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے جج، جسٹس ہاشم کاکڑ کے اعزاز میں بلوچستان ہائی کورٹ میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
اس موقع پر سابق چیف جسٹس ماضی کی تلخ یادیں بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے، انہوں نے کہا کہ جب وکالت شروع کی تو مجھے کہا گیا چوکیدار کے بیٹے ہو کہیں ٹھیلہ لگا لو وکالت تمہارے بس کی بات نہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ گھر سے عدالت آنے کے لیے کرائے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ کئی بار میلوں کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا، شعوری طور پر کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی، کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچایا۔
انہوں نے شرکاء سے جانے انجانے میں ہونے والی کسی بھی غلطی پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ بیٹیاں میرے دل کے بہت قریب ہیں ،قبائلی معاشرے میں بیٹیوں بہنوں سمیت خواتین کو آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا جو انتہائی منفی رویہ ہے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے جو کسی صورت نہیں ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق