مسلح افواج کے سربراہان قوم کو جواب دیں کہ اتنے زیادہ جوان کیوں شہید ہورہے ہیں؟ عمر ایوب
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہان تحقیقات کریں کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اتنے زیادہ پاک فوج کے جوان کیوں شہید ہورہے ہیں؟؟ قوم کو اس کا جواب دیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، شبلی فراز اور سلمان اکرم راجا نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج تین ایشو پر عوام سے بات کرنا چاہیں گے، ایک سال پورا ہونے کو آیا، پی ٹی آئی کو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا، نیشنل اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پاس 180 سیٹیں آئی تھیں، پنجاب میں بھی اکثریت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی انسان ہو وہ یہ جانتا ہے کہ 2024 کے الیکشن ریگڈ تھے، ہم نے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا، نہ کمیشن بنا نہ عدلیہ نے نوٹس لیا، ہماری 74 پیٹیشن میں سے کوئی ایک بھی آگے نہ بڑھ سکی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم آج بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنا آئینی حق واپس لیں گے، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ بنی حکومت نے آئینی ترامیم پاس کروائی تھی، پی ٹی آئی کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ چھبیسویں ترمیم پر فیصلہ کیا جائے، اس کا فیصلہ وہ جج صاحبان کریں جو ترمیم سے پہلے تعینات تھے، اس سے پہلے ہم نے مزاکرات کے لئے بھی کہا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خان صاحب نے کمیٹی بھی بنائی پر مزاکرات آگے نہ بڑھ سکے، حکومت نے راہ فرار اختیار کی اور موقع ضائع ہو گیا، اس وقت پی ٹی آئی پاکستان کی نمبر ون پارٹی ہے، خان صاحب نے کچھ لیٹر لکھے پاورفل آدمی کو، خان صاحب نے لکھا کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج نہیں ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر نہیں ملتا، یہ جمہوریت کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی تک رسائی بند کردی گئی ہے، توشہ خانہ ٹو کیس میں سماعت عجیب طریقے سے ملتوی کی گئی، عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے، عدلیہ کو کہنا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، انسداد دہشتگری عدالت کے ججوں کو کھڑے ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ، بشریٰ بی بی ، شاہ نے محمود قریشی ، یاسمین راشد ، حسان نیازی ، میاں محمود الرشید سمیت فوجی عدالتوں میں زیر حراست تمام قیدی سیاسی قیدی ہیں، ان سب کو رہا ہونا چاہیے، پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں ہے، یہاں کوئی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہے۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ میں تمام حکومتی وزراء کو چیلینج کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مہنگائی کے معاملے پر مناظرہ کرلیں،بجلی، آٹا، گیس ، چینی ، سب مہنگا ہوگیا، لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے، یہ دنیا کے سب سے جھوٹے لوگ ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اوپن خط لکھا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی وزیراعظم رہ چکے ہیں وہ دوبارا وزیراعظم ہوں گے، ان کے تجربے کا فائدہ اٹھانا چاہیے، ان کے ویژن اور تجربے سے فائدہ اٹھائیں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی پوری قوم کو متحد کرسکتا ہے۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، بلوچستان کے 8 اضلاع میں کوئی پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرا سکتا، بلوچستان کے ممبران قومی اسمبلی ڈرے ہوئے ہیں، 1971 میں جنرل یحیٰی نے کہا تھا کہ سب ٹھیک ہے اور تب ہی سقوط ڈھاکا ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گوریلہ جنگ جاری ہے، مسلح افواج کے سربراہان سے کہتا ہوں تحقیقات کریں کیوں اتنے زیادہ پاک فوج کے جوان شہید ہورہے ہیں؟؟ قوم کو اس کا جواب دیں، اسٹیٹ عوام ہوتی ہے، اسٹیٹ ، قومی اسمبلی ، سینٹ ، صوبائی حکومتیں ہوتی ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پہلی بار آئی ایم ایف کا اس نوعیت کا وفد پاکستان میں آیا ہے، آئین اور قانون کی بالادستی جب تک نہیں ہوگی تو کوئی یہاں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، یہ چیز سب کو نظر آرہی ہے، یہی بات بانی چیئرمین پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں، ہمیں چیف جسٹس آف پاکستان نے دعوت دی ہے جوڈیشل ریفارز کی میٹنگ میں، ہم انشاء اللہ اس میں جائیں گے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو ملک کو جوڑ سکتے تھے انہیں توڑا گیا، 8 فروری کو درندگی کی گئی، پٹن نے ہوشربا رپورٹ جاری کی گئی، سوچ ٹی وی نے الیکشن 2024 سے متعلق شاندار ڈاکیومنٹری بنائی ہے۔
انہوں نے کہا ک لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا، پہلے دھاندلی فریقین کرواتے تھے، الیکشن کا دن تقریبآ ٹھیک گزرا، لیکن اس کے بعد کاروائی ڈالی گئی، ہر پولنگ اسٹیشن پر ڈبے کھولے گئے، فارم 45 کو بدلا گیا، پولنگ سٹیشن سے پریزائیڈنگ افسران نے ووٹ والے ڈبے اور فارم 45 رٹرننگ افسران کے دفاتر میں منتقل کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ گنتی دونوں اُمیدواروں کی موجودگی میں ہونی چاہیے، رٹرننگ افسران کے دفاتر میں ہم بیٹھے ہوئے تھے تو کہا گیا گولی چل گئی ہے، ہمیں گریبانوں سے پکڑ وہاں سے باہر پھینکا گیا، گولی کس نے چلائی ؟؟ کوئی تحقیق نہیں ہوئی، یہی عمل 90 فیصد پاکستان میں ہوا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کہا گیا باقی عمل خفیہ طور پر ہوگا، فارم 45 کے ساتھ ایک فارم 46 ہوتا ہے جس پر پریزائڈنگ افسر یہ لکھتا ہے کہ کتنے بیلٹس استعمال ہوئے ، کتنے ووٹ ڈلے اور کتنے ضائع ہوئے، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹس پر آج بھی فارمز ایسے ملیں گے جہاں فارم 46 اور 45 میں ڈالے گئے ووٹ کچھ اور ہیں اور مجموعی نتیجہ کچھ اور ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا رکارڈ ہی پڑھ لیں تو سب عیاں ہو جائے گا، اس انتخاب کو بے دردی سے لوٹا گیا،اس رپورٹ کا مطالعہ کریں، سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے، یہ ڈاکا چھپ نہیں سکتا، پاکستان کی آواز کو سلب کیا گیا، ممکن نہیں ہے کہ ایک ہی حلقے میں قومی اسمبلی کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد ہو اور صوبائی اسمبلی کا ٹرن آؤٹ 40 فیصد ہو۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ اسمبلی قانونی جواز نہیں رکھتی، ہمارے پٹیشنز سنی نہیں جارہیں، میں نے تمام مواد الیکشن کمیشن میں فائل کیا، الیکشن کمیشن نے ہمارا مزاق اڑایا کہا گیا آپ راتوں رات 400 فارمز بنا لائے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہم کچھ نہیں کریں گے، الیکشن ٹریبونل بنے تو ہم وہاں سے، پنجاب جیسے 12 کڑوڑ آبادی والے صوبے میں 2 ججوں کو الیکشن ٹریبونل کے طور پر تعینات کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا مزید جج تعینات کیے جائیں، نام دینے پر اسرار کیا گیا، جسٹس شہزاد احمد خان نے جن ناموں پر اتفاق کیا اس پر ہم سب تسلی رکھتے تھے، اس کے جواب میں حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر کی، قاضی فائز نے اس کے خلاف فیصلہ دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی چیئرمین پی ٹی آئی ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر الیکشن کمیشن انہوں نے کہا قومی اسمبلی سلمان اکرم نے کہا کہ عمر ایوب نہیں ہے قوم کو
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔