چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان چین اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔جرمن ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے سی پیک جیسے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا اور ساتھ ہی امریکا سے تعلقات کو بھی ضروری قرار دیا۔ دوران انٹرویو بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی بات کی اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم موجودہ تقسیم کو بڑھانے کے بجائے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ ڈیل میکر ہیں، پاکستان امریکی صدر کے ساتھ انگیج ہوسکتا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ امن یا کم از کم تجارت یا انگیجمنٹ کی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو

پڑھیں:

بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی

رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔  اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل تین جون بروز بدھ شام پانچ بجے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل چلاس میں واقع فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟