پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلب، ٹیوشن فیس کے معاملے پر غور ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اپنے آئندہ کونسل اجلاس میں نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی ٹیوشن فیس کو معیاری بنانے پر غور کرے گی۔
یہ فیصلہ ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کی دستیابی اور اس کی استطاعت سے متعلق بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے ان خدشات کو دور کرنے کےلیے ایک منظم فیس کا ڈھانچہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعلیمی شعبے میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
کونسل کا مقصد نجی اداروں میں اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ضرورت سے زیادہ فیسوں کو روکنا ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ معیاری میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم طلبہ کے لیے قابلِ رسائی رہے۔
فیسوں کا ضابطہ ایک اہم قدم ہے جو نجی میڈیکل تعلیم میں استطاعت اور پائیداری کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں معاون ہوگا۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ہنگامی کونسل اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے نمائندوں، تعلیمی ماہرین اور سرکاری حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جائے گی تاکہ ایک منصفانہ اور معیاری فیس پالیسی کو حتمی شکل دی جا سکے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار کو بلند رکھنے کےلیے پرعزم ہے۔ مزید تفصیلات اور کونسل اجلاس کے حتمی فیصلے کا جلد اعلان کیا جائے گا۔
پی ایم اینڈ ڈی سی تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اس اہم پیش رفت سے آگاہ رہنے کے لیے سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی ذیلی کمیٹی کی ہدایات کے تحت، تمام نجی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سیشن 25-2024ء کے طلبہ سے اس وقت تک فیس وصول نہ کریں جب تک کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر نائب وزیرِ اعظم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی جانب سے نجی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی ٹیوشن فیس کا جائزہ لے کر اسے حتمی شکل نہ دیدے۔
تمام کالجز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ان احکامات کی تعمیل کریں اور ضروری اقدامات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ایم اینڈ ڈی سی
پڑھیں:
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔
ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف
سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ
کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔
اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔