حماس کا چار مغویوں کی لاشیں اور چھ قیدی اسرائیل کے حوالے کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
غزہ/یروشلم(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 فروری ۔2025 )حماس نے جمعرات کو چار مغویوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے اور ہفتے کو قیدیوں کا تبادلہ کرنے کا اعلان کیا ہے حماس کے مذاکرات کار خلیل الحیا نے کہا ہے کہ جن چار قیدیوں کی لاشیں واپس کی جائیں گی ان میں شری اور ان کے دو بچوں کفیر اور ایریل کی لاشیں بھی شامل ہیں اغوا کے وقت بیباس خاندان کے بچوں کی عمریں نو ماہ اور چار سال تھی یہ دونوں حماس کی قید میں موجود سب سے کم عمر یر غمالی تھے.
(جاری ہے)
حماس کا الزام ہے کہ ان تینوں کی ہلاکت اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہوئی ہے تاحال اسرائیل کی جانب سے اس بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے ان بچوں کے والد یارڈن کو رواں ماہ پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ حماس ہفتے کے روز مزید چھ قیدیوں کو بھی رہا کر ئے گی قیدیوں کی یہ تعداد طے شدہ تعداد سے دو گنا ہے. قیدیوں کے تبادلے میں رہائی پانے والوں میں سے دو کی شناخت ایورا مینگیستو اور ہشام السید کے نام سے ہوئی ہے جنہیں اس وقت پکڑا گیا تھا جب وہ غزہ میں داخل ہوئے تھے اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار تھے اس کے بدلے میں اسرائیل گزشتہ سال اکتوبر کے بعد گرفتار کی جانے والی تمام خواتین اور 19 سال سے کم عمر مردوں کو رہا کرے گا اس کے علاوہ مصر کے راستے ملبہ ہٹانے کی کچھ مشینری لانے کی بھی اجازت دی جائے گی. عرب نشریاتی ادارے کے مطابق حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ہفتے کو چھ اسرائیلی قیدیوں کو رہا اور جمعرات کو چار دیگر کی لاشیں واپس کی جائیں گی یہ رہائی بظاہر اسرائیل کی جانب سے تباہ حال غزہ پٹی میں عارضی مکانات اور تعمیراتی سامان لے جانے کی اجازت دینے کے بدلے میں ہو رہی ہے یہ چھ قیدی جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والے آخری زندہ قیدی ہوں گے جو اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے میں چھوڑے جا رہے ہیں. حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے ریکارڈ شدہ بیان میں کہا کہ جو لاشیں واپس کی جا رہی ہیں ان میں بیباس خاندان کے افراد بھی شامل ہیں اسرائیل نے اس خاندان کے افراد کی موت کی تصدیق نہیں کی جبکہ وزیر اعظم کے دفتر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حماس کے اعلان کے بعد تصاویر، نام اور افواہیں‘ نہ پھیلائیں. قیدیوں میں ایلیا کوہن، طال شوہام، عمر شیم توو، عمر ونکیرٹ، ہشام السید، اور اویرہ منگستو شامل ہیں جن کے ناموں کی فہرست اسرائیلی ادارے ہوسٹیج اینڈ مسنگ فیملیز فورم نے جاری کی ہے ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے قیدیوں کی رہائی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا عارضی مکانات اور تعمیراتی سامان غزہ لے جانے کی اجازت دی ہے پچھلے ہفتے حماس نے دھمکی دی تھی کہ وہ قیدیوں کی رہائی کو روک سکتی ہے کیونکہ اسرائیل نے عارضی مکانات اور بھاری مشینری کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی جسے حماس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا. مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اسرائیل نے منگل کو ملبہ ہٹانے والی مشینری کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رفح کی سرحد کے قریب فلسطینی علاقے میں دو بلڈوزر دیکھے جو ملبہ ہٹا رہے تھے ایک مصری ڈرائیور نے بتایا کہ درجنوں بلڈوزر اور ٹریکٹر ایک اور گزرگاہ پر موجود ہیں اور اسرائیلی اجازت کا انتظار کر رہے ہیں ادھرورلڈ بینک، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث غزہ کی تعمیر نو پر 53.2 ارب ڈالر لاگت آسکتی ہے جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 30 ارب ڈالر ہے جن میں سے نصف مکانات کی تباہی پر مشتمل ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قیدیوں کی کی لاشیں حماس کے
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں